خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 85
خطابات شوری جلد اوّل ۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء میں نے اجازت نہیں دی کہ نفاق سے اُن لوگوں میں رہے اور اُن کے ساتھ نماز پڑھے۔اُس نے یہ بھی کہا تھا کہ گھر پر نماز پڑھ لیا کروں گا مگر میں نے کہا اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہئے تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تم کون ہو۔منافقت کی انتہاء مگر بہائی بننے والوں نے یہ غداری کی کہ ہماری جماعت کے لوگوں کو نمازیں پڑھاتے رہے حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے جو محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سچا اور سب نبیوں کا سردار اور قرآن کریم کو قابلِ عمل جانتے ہیں۔مگر یہ کہتے ہیں کہ قرآن منسوخ ہو گیا اور بہاء اللہ کا درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا ہے۔وہ غیر احمدی جنہوں نے ہمارے بزرگوں کو قتل کیا ہم اُن کو ان سے ہزار درجہ اچھا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت سے لیتے ہیں۔مگر وہ شخص جو محد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہتا ہے کہ ان کی لائی ہوئی شریعت منسوخ ہوگئی اور بہاء اللہ کا درجہ آپ سے بڑا ہے ، اُس کے ساتھ ہمارا ذرا بھی تعلق نہیں ہوسکتا۔ہمارا قاتل ہم پر کفر کا فتویٰ لگانے والا ، ہمیں گھر بار سے جُدا کرنے والا، ہمیں بیوی بچوں سے علیحدہ کرنے والا ہمیں دشمن سمجھتا ہے۔گو ہم اس کو اپنا بھائی ہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے تعلق خدا کے لئے ہیں اور سب انسان چونکہ خدا کی مخلوق ہیں اس لئے ہمارے بھائی ہیں لیکن بہائیوں کے متعلق۔۔۔ان کا رویہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ غیر احمدیوں کا یا پیغامیوں کا ہمارے متعلق ہے۔کونسا دُکھ ہے جو غیر احمدیوں نے ہمیں نہیں دیا اور نہیں دے رہے اور پیغامیوں نے ہم سے کون سی کمی کی ہے۔خواجہ صاحب نے لکھا تھا کہ سب سے بڑا فتنہ یہ مبائعین کا گروہ ہے اور یہ سب سے بدتر ہے۔غیر احمدیوں کے متعلق کسے معلوم نہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو انہوں نے آپ کا مصنوعی جنازہ بنایا اور اس طرح ہمارے کلیجوں کو چھلنی کیا مگر بہاء اللہ کے جنازہ میں کئی مسلمان کہلانے والے شریک ہو گئے حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ قرار دیتا ہے مگر ہم اُن کی تقلید نہیں کر سکتے۔اُن کی مخالفت ہم سے اس لئے نہیں کہ ہم یہ مانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی غلامی میں نبی آیا بلکہ ذاتی وجوہ کی وجہ سے مخالفت کرتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو بہائیوں کی ہم سے زیادہ مخالفت کرتے مگر ان سے تعلقات رکھتے ہیں حالانکہ وہ شریعتِ اسلامیہ کو منسوخ سمجھتے ہیں۔