خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 86
خطابات شوری جلد اوّل ۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء ہمارے تعلق خدا کے لئے ہیں مگر ہمارے تعلق چونکہ خدا کے لئے ہیں اور جو خدا اور اس کے رسول کو چھوڑتا ہے اُس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔اس لئے میں نے اعلان کیا ہے کہ چونکہ یہ لوگ احمدی نہیں رہے اس لئے جماعت سے خارج کئے جاتے ہیں اور چونکہ اُنھوں نے ہم سے غداری اور فریب کیا ہے اس لئے جماعت ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے سوائے انسانی ضروریات کے کہ جو زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہیں۔مثلاً سودا دینا یا کنویں سے پانی لینے دینا۔پس انسانی حقوق کو چھوڑ کر جو تمدنی حقوق ہیں ان کے متعلق اعلان کرتا ہوں کہ اُن سے کوئی سلوک جائز نہیں مگر یہ انہی کے متعلق ہے، بہائیوں کے لئے نہیں۔ان کو تو ہم چاہتے ہیں کہ تبلیغ کریں مگر ان لوگوں نے جو غداری کی ہے اس کی یہ سزا ہے اور یہ ویسا ہی سلوک ہے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کی جنگ سے پیچھے رہنے والوں سے کیا تھا کہ ان سے بات تک نہ کریں۔اُس سے ان کا جُرم بڑا ہے۔وہ غلطی سے پیچھے رہے تھے مگر انہوں نے غداری کی ہے۔غداری کی تازہ مثال ان کی غداری کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ اخبار فاروق جو عُریاں طور پر احمدیت کی تبلیغ کرنے والا اخبار ہے اور جو غیرت میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ بعض اوقات ہم کو اُسے روکنا پڑتا ہے، اس میں تنخواہ دار ملازم ہو کر محفوظ الحق نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں بہائی مذہب کی تائید کی ہے مگر یہ ظاہر نہیں کیا۔اس مضمون کو پڑھ کر ہر احمدی یہی سمجھے گا کہ اس سے مسیح موعود علیہ السلام مراد ہیں مگر دراصل اس سے بہاء اللہ مراد لیا گیا ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔مسد ” اے اُمتِ مرحومہ وہ دیکھ اِس تیرہ و تاریک رات میں رحمت کا فرشتہ فضل کا چراغ لئے ہوئے دُور سے چلا آ رہا ہے۔اے اُمتِ مسلمہ ! آنکھیں کھول اور دیکھ کہ عنایت الہی کے بلند جھنڈے لیکر نصرت خداوندی کا لشکر آ پہنچا ہے۔اسلام کا روحانی تاجدار پھر ظاہر ہو گیا۔ربانی فوج جذب حق کے اسلحہ سے صلح ہو کر نمودار ہو گئی۔یہ وہ فوج ہے جس کا وعدہ ابتداء سے تھا۔دیکھو خدا نے اس جماعت کے ظہور کا وعدہ کیسے زبر دست الفاظ میں فرمایا ہے۔وربك المني ذُو الرَّحْمَةِ