خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 84

خطابات شوری جلد اوّل ΔΙ مجلس مشاورت ۱۹۲۴ء نکال دینا چاہئے تا اس کا بد اثر کسی پر نہ ہولیکن میں نے کہا تم بھی اپنے خیالات اُسے سُنا ؤ۔ا پس ہم اس بارہ میں تنگ دل نہیں۔ہم غداری کو برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی ہم سے غداری اور دھوکا کرے۔اگر کوئی کسی اور مذہب کو پسند کرتا ہو تو آئے اور اپنے خیالات اور اعتراضات پیش کرے تا کہ اگر ہم ان کا ازالہ کر سکیں تو کریں۔مگر انھوں نے نہ صرف اپنا خیال ظاہر نہ کیا بلکہ در پردہ دوسرے لوگوں کو متاثر کرنا چاہا اور ان کو کہا کہ وہ ان باتوں کو مخفی رکھیں تا کہ ان کے شکوک رفع نہ ہوسکیں۔پھر اس سے بڑھ کر اُنھوں نے غداری یہ کی کہ ایسی حالت میں ان کا موں پر مامور رہے جن کی غرض اشاعت احمدیت ہے۔وہ تنخواہ اس کام کے لئے لیتے رہے مگر کام اس کے خلاف کرتے رہے اور بعض مضامین بھی خلاف لکھے۔ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی کو روپیہ دیں اور کہیں کہ ہمارے لئے زمین خرید و۔وہ جائے اور کہے کہ میں نے تمہارے لئے زمین خریدی ہے مگر در پردہ اپنے نام زمین لکھا لے۔ایسا شخص ایک غدار اور فریبی سمجھا جائے گا لیکن اس سے بڑھ کر وہ غدار اور فریبی ہے جو دین میں ٹھگی کرتا ہے۔ایسے شخص کی شکل بھی دیکھنا ہم پسند نہیں کرتے۔پھر ایسا شخص اگر یہ کہے کہ جو مذہب ہم نے قبول کیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ اخلاق کی اصلاح کرے اور یہ سب سے اعلیٰ مذہب ہے، تو کس قدر جھوٹا ہوگا۔اس مذہب سے بدتر کوئی مذہب نہیں اور اس سے بڑھ کر جنون نہیں ہوسکتا۔اگر ایسے مذہب کے ماننے والے یہ کہیں کہ وہ اصلاح کے لئے آیا ہے تو ایسے لوگوں کو یا تو پاگل کہا جائے گا یا پرلے درجہ کے بے شرم اور بے حیا جو اتنا بھی نہیں جانتے کہ اخلاق کیا ہوتے ہیں۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک شخص یہاں آیا اور کہنے لگا میں نے سلسلہ احمدیہ کو سمجھ لیا ہے اور بیعت کرنا چاہتا ہوں مگر اپنے علاقہ میں جا کر نہیں بتلاؤں گا کیونکہ وہاں ابھی اور کوئی احمدی نہیں۔پہلے جماعت تیار کروں گا پھر ظاہر ہو جاؤں گا۔میں نے کہا تم کیا جماعت تیار کرو گے جو اپنے آپ کو ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔جاؤ بھی ظاہر ہونے کی جرات پیدا کرو پھر بیعت کرنا۔وہ کسی کا نوکر نہ تھا بلکہ ایک پیشہ ور یعنی سُنا ر تھا مگر باوجود اس کے