خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 78

خطابات شوریٰ جلد اوّل ZA مشاورت ۱۹۲۳ء کرتی بلکہ اُن سے نفرت کرتی ہے تو جماعت کے خلاف اُس کا یہ حربہ بیکار ہو جائے گا۔ایسے لوگوں سے نفرت کا سلوک ہونا چاہئے۔جماعت کے لوگوں کو محسوس ہو کہ ایسے لوگوں کی عزت نہیں اور خود ان کو بھی اصلاح کا خیال پیدا ہو۔جو لوگ اپنی اصلاح نہیں کریں گے جماعت کا حق نہیں ہوگا کہ خود بخود اُن کو عہدوں سے معزول کر دے، بائیکاٹ کر دے بلکہ اُن کو مرکز میں اطلاع دینی ہوگی اور پھر مرکز سے ایک مبلغ بھیجا جائے گا جو تحقیقات کرے گا پھر اس کے متعلق مرکز سے احکام جاری ہوں گے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اپنی ذاتی رنجشوں کے باعث ایک دوسرے کے خلاف خواہ مخواہ ہی فتنہ کھڑا کر دیں۔اگر تحقیقات کے بعد کوئی شخص مجرم ثابت ہو گا تو اس کو جماعت سے نکال دیا جائے گا۔“ اختتامی تقریر آخر میں حضور نے فرمایا : - اب میں دُعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے احباب کو اس ذمہ داری کے اٹھانے کی توفیق دے اور ہم جماعت کے امتیاز کو ثابت کریں۔ہمارے دل مومنوں کے دل ہوں، ہم اپنے اعمال و حرکات اور اخلاق سے ثابت کریں کہ ہم میں اسلام ہے اور اسلام خدا کا دین ہے اور اس کے آثار و نشانات ہم میں ہیں۔ہم سے وہ باتیں ظاہر ہوں جو سچے دین والوں سے ظاہر ہوتی ہیں اور خدا کی طرف سے ان کو ملا کرتی ہیں جو لوگ خدا کے لئے کام کرتے ہیں اُنہی کو اُس کی طرف سے مدد و نصرت ملتی ہے۔خدا نے ہمارے کامیابی کے راستے کھول دیئے ہیں جن کے ذریعہ انسان خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس رستہ پر ڈالا ہے جو اس نے اپنے تک پہنچنے کے لئے کھول دیا ہے۔یہ وقت نازک اور ذمہ داری کا ہے ایسے وقت کبھی کبھی آتے ہیں سستی سے اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔دوستوں کو چاہئے کہ اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور مخلص لوگ اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں دینے کے لئے تیار ہوں اور مال وزر دینے پر ہی غافل نہ ہوں۔یہ مت سمجھو کہ عالم ہی خدمت دین کر سکتے ہیں۔نہیں۔ہر ایک شخص خدمت دین کر سکتا ہے۔علماء کا کام صرف ان کو سنبھالنا اور تیار کرنا ہے۔اشاعت اسلام کا کام محدود کام نہیں بہت وسیع ہے۔جب تک سب کے سب اس کام کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہوں گے اُس