خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 77

خطابات شوریٰ جلد اوّل LL مشاورت ۱۹۲۳ء دی جائے ان کے لئے فقہ اور حدیث وغیرہ مضامین پڑھائے جائیں۔ہاں ایک مدرس یا ممتحن مقرر کیا جائے جو ہر جگہ دورہ کر کے امتحان لے اور معلوم کرے کہ کیا عورتیں اس نصاب کو پورا کر چکی ہیں۔طریق یہ ہو کہ ان کے مردوں کا پہلے امتحان لیا جائے اگر پاس ہوں تو ان کے ذریعہ عورتوں کا لیا جائے۔یہ نہیں تو جو عورت جانتی ہواس کے ذریعہ امتحان لیا جائے۔رہا قادیان کا لوکل سکول اس کو بھی ترقی دی جاسکتی ہے مگر سرکاری Aid لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر ہم وہ لیں گے تو ہم اپنے حسب منشاء تعلیم نہیں دے سکیں گے۔جیسا کہ ہمارے لئے بعض وقتیں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے متعلق در پیش رہتی ہیں۔ہم ایک بات جاری کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں جواب ملتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو Aid نہیں ملے گی پس ہمیں اس کو ترقی دینا چاہئے اور اس کے لئے ہمارے پاس کتابیں موجود ہیں اردو میں تاریخ اسلام اور مسائل کی کتابیں پڑھائیں۔احادیث ، جغرافیہ وغیرہ پڑھائے جاسکتے ہیں اور ان کو ان کے فرائض سے آگاہ کیا جائے ورنہ جس قسم کی تعلیم سرکاری سامان کی ہوتی ہے اس سے تو عورتیں اور سب کام چھوڑ کر مردوں میں شکایت کرتی رہتی ہیں۔پس ہمارے لئے وہ تعلیم ہو سکتی ہے جس سے عورتیں دین سے آگاہ ہوں اور اپنے فرائض کو سیکھیں اور بس۔سرکاری مدارس کے متعلق میرا خیال ہے کہ تیسری جماعت یا سات سال تک سرکاری مدارس میں تعلیم ہو۔اس کے بعد گھر میں تعلیم دلوائی جائے۔“ ایک سوال یہ اُٹھایا گیا کہ : - ”جو لوگ اخلاق کا اچھا نمونہ نہیں دکھاتے اُن سے کیا سلوک کیا جائے“ اس بارہ میں کثرتِ رائے سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ ایسے لوگوں کو سمجھایا جائے اگر پھر بھی اصلاح نہ کریں تو بائیکاٹ کیا جائے۔اس پر حضور نے فرمایا: - میں کثرت سے اتفاق کرتا ہوں۔بعض لوگ جماعت کے کاموں کے عہدوں پر ہوتے ہیں ان میں وہ رذائل اخلاق ہوتے ہیں جن سے جماعت بدنام ہوتی ہے۔اُن کو معہدوں سے معزول کر دینا چاہئے۔دشمنوں کے پاس ہمارے خلاف ایک زبر دست حربہ ہو گا کہ ان کے ذمہ دار لوگ ایسے ہیں۔جب دشمن دیکھے گا کہ ایسے لوگوں کی جماعت قدر نہیں