خطابات — Page 68
68 ایک لکھنے والے نے لکھا کہ اگر مُردوں کو زندہ کرنے کا ذریعہ کوئی تقریب بن سکتی ہے تو وہ یہ تقریب اور آپ کا خطاب تھا۔خدا کرے کہ حقیقت میں ایک انقلاب اس تقریب سے دنیائے احمدیت پر آیا ہو اور وہ قائم بھی رہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے اپنے دلوں کی پاک تبدیلیوں کو ہمیشہ قائم رکھنے والے بنے رہیں۔اس وقت وہاں اردگرد کے ماحول میں ایکسیل (Excel) سینٹر کے مقامی لوگ بھی حیرت سے لوگوں کو جمع ہوتے اور ایک عجیب کیفیت میں دیکھ کر حیران تھے کہ یہ کون لوگ ہیں۔عموماً تو یہ تاثر ہے کہ مسلمان ڈسپلنڈ (Disciplined) نہیں ہوتے ، عجیب و غریب ان کی روایات ہیں۔یہی مغرب میں تاثر دیا گیا ہے۔لیکن اُس وقت ان کی حالت عجیب تھی اور یہ دیکھ رہے تھے کہ یہ تو عجیب قسم کے لوگ ہیں جو لگتے تو مسلمان ہیں لیکن ان میں ایک طرح کی تنظیم ہے۔ایشیائی اکثریت ہونے کے باوجود ان میں مختلف قومیتوں کے لوگ بھی شامل ہیں اور ہر بچے ، جوان، مرد، عورت اور مختلف قوموں کے لوگوں کا رخ جو ہے ایک طرف ہے۔خلافت سے محبت اور عقیدت جو ان کے دلوں میں ہے اس کا اظہار ان کے چہروں سے بھی ظاہر وعیاں ہے بلکہ جسم کے ہر عضو سے ہو رہا ہے۔Excel سنٹر کی ایک سیکیورٹی خاتون کارکن جو وہاں تھیں ، انہوں نے ہماری خواتین کو کہا کہ یہ ایسا نظارہ ہے جو میرے لئے بالکل نیا ہے، بالکل ایک نیا تجربہ ہے اور اس کو دیکھ کر آج مجھے پتہ چلا کہ اسلام کیا ہے۔میں تو اس نظارہ کو دیکھ کر ہی مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔بہر حال ان لوگوں میں تو عارضی کیفیت فوری رد عمل کے طور پر پیدا ہوتی ہے، اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں لیکن دعا ہے کہ اس خاتون اور اس جیسے بہت