خطابات — Page 67
67 بھی موقع مل رہا تھا سب اس خاص ماحول اور کیفیت سے حصہ لے رہے تھے۔گویا خدا تعالیٰ نے تمام دنیا میں رہنے والے ہر ملک اور قوم کے احمدی کو ایک ایسے تجربہ سے گزارا جو انہیں وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔یہ ایک منفرد اور روحانی تجربہ تھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صداقت اور آپ کے ساتھ اللہ تعالی کے وعدوں کے پورا ہونے کا ایک عظیم اظہار تھا جسے اپنوں نے بھی دیکھا اور محسوس کیا اور غیروں نے بھی دیکھا۔27 مئی کا یہ دن جس میں خلافت احمدیہ کے 100 سال پورے ہوئے اپنوں اور غیروں کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نشان دکھا گیا۔وہاں بیٹھے ہوئے احمدی مرد اور خواتین اور بچے سب اس کیفیت میں تھے کہ جو بھی مجھے ملے انہوں نے یہی کہا کہ ہمارے ایمان اس تقریب نے تازہ کر دیئے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا باہر کی دنیا کے احمدیوں کا بھی یہی حال تھا۔ہر جگہ سے بے انتہاء خلافت سے محبت اور عقیدت اور اپنے ایمان میں مضبوطی کا اظہار ہو رہا ہے۔ایک صاحب نے لکھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ میں آج نئے سرے سے احمدی ہو ا ہوں۔کئی ایسے جو بعض شکوک میں مبتلا تھے گو انہوں نے خلافت خامسہ کی بیعت تو کر لی تھی لیکن ان کے دل اس بات پر راضی نہیں تھے انہوں نے لکھا کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور استغفار بھی کی اور آپ سے بھی عہد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس تقریر کی برکت سے ہمارے دلوں کو صاف کیا ہے بلکہ کہنا چاہئے کہ دھو کر چپکا دیا ہے۔اس کے بعد ہم اب خلافت احمدیہ کے لئے ہر قربانی کے لئے بچے دل سے تیار رہیں گے اور اپنی نسلوں میں بھی وہ روح پھونکنے کی کوشش کریں گے جو ہمیشہ ان کو خلافت کے فیض سے فیضیاب ہونے والا رکھے۔