خطابات — Page 69
69 سوں کے دلوں میں یہ نظارہ پاک تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ہمارا مقصد اور مدعا تو یہی ہے کہ دنیا اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے اور آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے چاہے جس ڈھب سے بھی کوئی سمجھے یا کسی بات سے بھی کوئی سمجھے۔پس اس خلافت جو بلی کے جلسہ میں جس میں اپنوں اور غیروں نے وحدت کی ایک نئی شان دیکھی ہے یہ آج صرف اور صرف حضرت مسیح موعود اس کی السلام جماعت کا خاصہ ہے۔آج اس وحدت کی وجہ سے عافیت کے حصار میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق کوئی جماعت ہے تو وہ صرف اور صرف مسیح محمدی کی جماعت ہے۔باقی سب انتشار کا شکار ہیں اور رہیں گے جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی قدر نہیں کریں گے۔جب تک کہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کو نہیں مانیں گے کہ جب میر اسیح و مہدی ظاہر ہو تو اس کو میر اسلام پہنچاؤ۔مسلمانوں کی حالت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔غیر مذاہب کی خدا تعالیٰ سے ڈوری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ شیطان کی گود میں جا پڑے ہیں۔اپنے پیدا کرنے والے کو بھول چکے ہیں۔اس مقصد کو بھول چکے ہیں جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے بلکہ اب تو اس کا فہم و ادراک بھی ان کو نہیں رہا کہ ان کی پیدائش کا مقصد السلام کیا ہے۔پس آج اگر کوئی جماعت ہے تو یہ مسیح موعود کی جماعت ہے جو اس مقصد کو جانتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کرتی ہے۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت ہی ہے جس نے اس عروہ وُثقی کو پکڑا ہوا ہے جس سے ان کے صحیح راستوں کا تعین ہوتا رہتا ہے۔اس مضبوط کڑے کو پکڑا ہوا ہے جس