خطابات — Page 70
70 کے نہ ٹوٹنے کی ضمانت خود خدا تعالیٰ نے دی۔اللہ تعالیٰ نے آج اپنے فضل سے احمد یوں کو اس برتن کے کڑے کو مضبوطی سے پکڑایا ہوا ہے جس میں مسیح محمدی کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے تازہ بتاز و روحانی پانی بھر دیا ہے۔وہ زندگی بخش پانی جس کو پینے سے روحانیت کے اعلیٰ سے اعلیٰ معیار ایک مومن طے کر سکتا ہے۔پھر اس مضبوط کڑے کو پکڑنے کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ اس پکڑے رہنے والوں کے ایمان ہمیشہ سلامت رہیں گے۔مسیح محمدی کی غلامی میں آ کر اس سے عہد بیعت باندھنے والے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنے والے اپنے ایمان میں ہمیشہ ترقی کرتے چلے جائیں گے۔ہر حالت میں ہر مخالفت کے دور میں اس کڑے کے پکڑے رہنے والوں کے ایمان محفوظ رہیں گے۔اس کڑے سے چمٹنے والا مومن اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن اس کڑے کو نہیں چھوڑتا جس کے چھوڑنے سے اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہو۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ مخالفت کی آندھیاں حقیقی مومنین کو، ان کے ایمان کو اپنی جگہ سے نہ ہلا سکیں۔ماؤں کے سامنے بیٹے قتل کئے گئے ، بیٹوں کے سامنے باپوں کو آہستہ آہستہ اذیت دے کر مارا گیا، شہید کیا گیا، باپوں کے سامنے بیٹوں کو شہید کیا گیا۔پھر احمدیت کو چھوڑنے کے لئے انتہائی اذیت سے کئی احمدیوں کو گزرنا پڑا۔آہستہ آہستہ ٹارچر دے کر مارا گیا۔اور یہ ڈور کے واقعات نہیں ہیں۔اس سال بھی کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔لیکن جس ایمان پر وہ قائم ہو چکے تھے یہ اذیتیں اُن کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں لاسکیں۔پس آج جب ہم جو بلی کی خوشی منارہے ہیں تو دراصل یہ خوشی خلافت کے