خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 71 of 110

خطابات — Page 71

71 سوسال پورے ہونے پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کی خوشی ہے اور اس سو سال میں جولہلہاتے باغ اس انعام سے چمٹے رہنے کی وجہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ، اس کی خوشی میں ہے۔ان لہلہاتے باغوں کو دیکھ کر جب ہم خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو ان شہدائے احمدیت کو بھی یادرکھیں اور ان کے لئے اور ان کی اولادوں کے لئے بھی دعائیں کریں جنہوں نے اپنے خون سے ان باغوں کو سینچا ہے۔اپنے ایمان کی مضبوطی کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جو تاریخ کے سنہری باب ہیں۔عُروہ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایسا سبزہ زارجو ہمیشہ سرسبز رہتا ہے۔بارش کی کمی بھی اس پر کبھی خشکی نہیں آنے دیتی۔پس یہ ایسا سبزہ زار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ و السلام پر ایمان کی وجہ سے جماعت کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے جو ہمیشہ سرسبز رہنے کے لئے ہے۔جس کو شبنم کی نمی بھی لہلہاتی کھیتیوں میں اور سرسبز باغات کی شکل میں قائم رکھتی ہے۔پس اس عُروة وثقی کو پکڑے رہیں گے تو انعامات کے وارث بنتے چلے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ جس نے شیطان کی باتوں کا انکار کیا اور ایمان پر قائم رہا تو فرمایا کہ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا " یعنی ایک نہایت قابل اعتماد مضبوط چیز کو مضبوطی سے پکڑ لیا جو بھی ٹوٹنے والا نہیں اور پھر آخر پر فرمایا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ کے اللہ بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔پس جو لوگ دلوں کی صفائی کے ساتھ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے اس انعام سے چمٹے رہیں گے دیکھیں المنجد۔زیر مادہ عری“۔ایڈیشن پنجم۔مؤلفہ لولیس معلوف سورة البقرة - آيت 257 سورۃ البقرۃ۔آیت 257