خطابات — Page 38
38 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس میں سنا، ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ اپنے ایمان اور اعمال کی طرف نظر رکھیں۔یہ لوگ جیسا کہ میں بتارہا تھا کہ غیر کوشش کرتے ہیں کہ ہم میں بھی خلافت قائم ہو۔اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں لیکن ان میں یہ قائم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اپنی مرضی سے اس کی تعریف کرنا چاہتے ہیں۔بجائے اللہ تعالیٰ کی خلافت لینے کے اپنی خلافت ٹھونسنا چاہتے ہیں۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان کے خوف کی حالت امن میں بدلے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان میں خلافت کا نظام قائم ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔اللہ تعالیٰ اس نظام کے تحت جہاں مومنوں کے خوف کی حالت کو امن میں بدلتا ہے وہاں اپنے مقرر کردہ خلیفہ کے دل سے ہر قسم کے دنیاوی خوف نکال کر خوف کی حالتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا فرماتا ہے۔ہر مشکل حالت میں اپنے فضل سے تسلی دیتا ہے تا کہ خلیفہ وقت جماعت کو تسلی دے۔پس کیا د نیادی تدبیریں الہی تو پیروں کا مقابلہ کر سکتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں پھر اس بات کی تلقین فرماتا ہے، یہ تستی دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو تمہارے خوفوں کو امن میں بدلے گا، خلیفہ وقت کی رہنمائی تو کرے گا۔اس کی عبادت کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے گی اور وہ تو کل دنیا کے خوفوں اور چاہتوں کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں شریک بنا کر کھڑا نہیں کرے گا۔وہ تو ناشکری نہیں کرے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس بات کا ثبوت ہوں گی۔اور اگر بشری کمزوری کی وجہ سے خلیفہ وقت سے لاشعوری طور پر کبھی ایسی صورت ہو بھی گئی جس سے غلط نتائج کا امکان ہوسکتا ہو تو خدا تعالیٰ خود خلیفہ وقت کا قبلہ درست کر دے گا۔خدا تعالیٰ اپنے انعام کی وجہ سے، اپنے انتخاب کی وجہ سے ایسی حالت میں بھی بہتر نتائج پیدا فرمائے گالیکن