خطابات — Page 37
37 یعنی یہ وعدہ ان لوگوں کے لئے نہیں جو اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں۔آج اُمت مسلمہ میں خلافت کے قیام کے لئے کتنی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن وہ بارآور نہیں ہوسکتیں اور کبھی نہیں ہوسکتیں۔اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کی مرضی کی بجائے اپنی مرضی کا دین جاری کرنا چاہتے ہیں۔اللہ کی بھیجی ہوئی خلافت کی اطاعت کی بجائے بندوں کی بنائی ہوئی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔باوجود اس احساس کے کہ ہم غلطی کر رہے ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انکار کر رہے ہیں۔لیکن اس آیت استخلاف میں جو تسلی اللہ تعالیٰ نے جماعت کو دی ہے اور جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے۔آج جماعت احمدیہ کی تاریخ خاص طور پر خلافت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ جو ہے ہر فرد کو آیت استخلاف کی حقیقی تصویر کا فہم و ادراک دے چکی ہے اور ہر احمدی کو عملی طور پر بھی اللہ تعالی کے انعامات کی بارش کا مصداق بنا دیا ہے۔پس آج یہ بات ہر احمدی پر واضح ہے اور واضح رہنی چاہئے کہ اس کے مصداق وہی لوگ بنتے ہیں جو ایمان میں کامل ہونے کی کوشش کرنے والے اور اعمال صالحہ بجا لانے والے ہوں۔آج تو غیر بھی ہمارے نظارے دیکھ کر اس بات کا بر ملا اظہار کرتے ہیں اور اس کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں کہ خوف کی حالت کو امن میں بدلتے اگر کسی نے اس زمانہ میں دیکھنا ہے تو جماعت احمدیہ کو دیکھ لے۔پس کتنے خوش قسمت ہیں ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر اس انعام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔پس یہ آیت جو آیت استخلاف کہلاتی ہے اور اس کے کچھ حصہ کا ذکر ہم نے