خطابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 110

خطابات — Page 39

39 افراد جماعت کو بھی اس طرف توجہ کرنی ہوگی کہ عبادت کی طرف توجہ دیں ،شرک کی چھوٹی سے چھوٹی حالت سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ اللہ تعالی کے اس انعام کی قدر کرتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے بنے رہیں۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ افراد جماعت کو بھی اس انعام کی قدر کرتے ہوئے اس کے شکر گزار بندے بنے رہنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جب یہ ہوگا تو پھر بے فکر ہو جائیں کہ خدا ان کے آگے بھی ہوگا ، پیچھے بھی ہوگا ، دائیں بھی ہوگا اور ہا ئیں بھی ہوگا اور کوئی نہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکے۔پس یہ حالت ہم نے خدا تعالی کی قائم کردہ جماعت پر اس وقت بھی دیکھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر ایک ایسی حالت طاری ہوئی جس نے ہر ایک دل کو ہلا کر رکھ دیا ، ہر ایک احمدی کو ہلا کر رکھ دیا۔دشمن نے خوشی کے شادیانے بجائے کہ اب یہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اپنے انجام کو پہنچی کہ اچھی۔مخالفین کی بیہودہ گوئیاں اور ہرزہ سرائیاں جو تھیں ان میں سے بعض یہاں پیش کرتا ہوں تاکہ نئی نسل اور نئے آنے والوں کو بھی پتہ چلے کہ کس کس طرح مخالفین نے جماعت میں فتنہ کی افواہیں اڑائیں۔مثلاً ایک پراپیگنڈہ پیر جماعت علی شاہ کے مریدوں نے کیا کہ کثرت سے مرزائی لوگ تائب ہوکر بیعت کر رہے ہیں“ لے یعنی احمدیت چھوڑ کر اُن کے اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔حالانکہ حقیقی اسلام اب احمدیت میں ہے۔تو یہ ان کی باتیں تھیں۔آج بھی بے چارے مولوی، ہمارے مخالفین ، اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔لیکن یہ ان کی خواہش ہے۔نہ دیکھیں المجد و (لاہور) جون 1908 ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت مؤلفہ مولانا دوست محمد شاہد۔جلد 3 صفحہ 204۔مطبوعہ 2007ء۔نظارت نشر و اشاعت قادیان۔بھارت