خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 96
خطابات طاہر جلد دوم 96 96 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء ہے کہ انشاء اللہ یہ ملک اگر اس طرح جاری رہا تو پھر نہیں تباہ ہوتا۔اور جہاں تک بڑے لوگوں کا تعلق ہے حنیف رامے صاحب کا بیان جو ایک معروف سیاسی رہنما ہیں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔انہوں نے بڑی ہمت کی ، بڑی جرات دکھائی اور جو گزشتہ بزدلیاں تھی جس کو جماعت کہتی تھی، ہے تو شریف مگر ہے بڑا بزدل وہ دھونے دھوئے۔میرے ساتھ بھی ان کے تعلقات رہے ہیں اس لئے میں امید کرتا ہوں میری اس بات کا ،صاف گوئی کا برانہیں منائیں گے۔سرگودھا والے تو ہمیشہ ان کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کیا کرتے تھے کہ اچھا بھلا شریف اور معقول آدمی ہے۔وہاں تقریر ہورہی ہے وزیر اعلیٰ کی اور سارے علاقے کی پولیس اور ساری سیکورٹی فورسز اور منتظم وہاں موجود ہیں اور ان کے سامنے ، ان کی موجودگی میں احمدیوں کے اور ہماری جماعت کے امیر کا گھر جل رہا تھا اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا لیکن ان کو خدا نے تو فیق عطا فرما دی، ان کو حوصلہ عطا فرمایا۔بہت اچھا بیان دیا اور ایک ہی دن میں ہر احمدی کا دل دھل کے صاف ہو گیا ان کے لئے اور ابھی بھی امیر صاحب سرگودھا میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، مرزا صاحب میں نے ذکر ہی کیا تھا کہتے اسی ہون معاف کر چھڈیا۔احمدی تو بڑا حو صلے والا ہے ہر ظلم معاف کرنے کے لئے تیار ہے بلکہ منتظر رہتا ہے کہ بہانہ تو دو ہمیں، دعائیں دیتے ہیں اس کے بدلے اور خدا نے یہ فضل کیا کہ اس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔لاہور کی ہائی کورٹ نے بہت ہی عمدہ نمونہ دکھایا اور وہاں کے جو شوکت صاحب ہیں ، وہاں کے شیخ شوکت علی صاحب انہوں نے ، سابقہ حج بھی ہیں اور لاہور بارایسوسی ایشن کے وہ پریزیڈنٹ تھے اُس وقت ، انہوں نے باقاعدہ بیان جرات کے ساتھ شائع کیا ہے۔سپریم کورٹ کے ایک جج نے اور پانچ دوسرے ہائیکورٹ کے ججوں نے مسٹر فخر الدین جی ابراہیم پاکستان سپریم کورٹ کے سابقہ حج، مسٹر محمد علی سعید اور مسٹر فضل غنی خان سابقہ حج مغربی پاکستان ہائیکورٹ اور مسٹر عبدالعزیز مومن، اور مسٹر جی ایم شاہ سابقہ حجز سندھ ہائیکورٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایت کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کو خواہ وہ کسی مذہب وملت یا عقیدہ کا پیرو ہو مذہبی آزادی ملنی چاہئے۔احمدیوں کی طرز نماز اور کلمہ طیبہ پر پابندی ایک انتہائی ظالمانہ حرکت ہے اور انسان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔پہلے کبھی آپ سوچ سکتے تھے آپ لاکھ پروپیگنڈا کرتے تو رائے عامہ اس