خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 358

خطابات طاہر جلد دوم 358 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۴ء کے بزرگ نے کوئی ایسی بات لکھی ہو جس کا ترجمہ ہمارے نزدیک گستاخی رسول پر منتج ہوتا ہو، اس فرقہ کی طرف منسوب ہونے والے ہر شخص کا قتل لازم ہے۔یہ ان کا مسلک ہے جو عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے، اس مسلک کی رو سے کہاں گئی ہیں ان کی تلواریں ، کہاں محمد رسول اللہ کی عزت اور حمیت کے لئے ان کے پھڑکنے والے دل اور جگر ہیں، کیوں وہ تلواریں اٹھ کر اب ان دیو بندیوں کو قتل عام کا حکم نہیں دیتیں؟ اس سے بڑھ کر نہایت ہی خبیث نہ زبان استعمال کرتے ہوئے براہین قاطعہ مصنفہ خلیل احمد مصدقہ رشید احمد گنگوہی ، تصنیف ہے مولوی خلیل احمد صاحب کی اور تصدیق فرمائی گئی ہے رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف سے ، صفحہ ۵۱ پر لکھا ہے: " شیطان کا علم حضور علیہ السلام سے وسیع تر تھا۔“ کوئی کہیں گنجائش باقی رہ جاتی ہے کسی نرمی کی کسی استثناء کی۔یہ بد بخت لوگ پاکستان کی گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں اور احمدی کلمہ گوؤں کے خلاف یہ اعلان کرتے پھر رہے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ کی تصدیق کرتے ہیں ان کی گردنیں ماردو، یہ بے عزتی اور گستاخی کر رہے ہیں اور یہ ہیں محمد رسول اللہ کی شان بیان کرنے والے ان کے علماء اور چوٹی کے مسلمہ علماء، ایسا بد بختی کا کلمہ ان کے قلم سے نکلا ہے کہ کاش اس سے پہلے ان کی موت واقعہ ہو جاتی اور اس لعنت کا شکار نہ ہوتے قلم نے لکھا کہ شیطان کا علم حضور علیہ السلام سے وسیع تر تھا۔افاضات الیومیہ از مولانا اشرف علی تھانوی میں لکھا ہے: ”حاجی امداداللہ صاحب کو صلى الله رحمۃ للعالمین کہتے ہیں۔“ آنحضرت ﷺ کے لئے، آنحضور ﷺ کا ایک محاورہ رائج ہے۔کسی احمدی نے الفضل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضور ﷺ نہیں لکھا، حضور لکھا ہے۔جو ہر یکہ بان ہر تانگے والا ہر مسافر کو، ہر مسافر دوسرے کو عام گلیوں میں کہتا پھرتا ہے حضور ، حضور ، حضور اور پاکستان کے جوں کا حال یہ ہے، کہتے ہیں یہ گستاخی رسول برداشت نہیں ہو سکتی۔دفعہ C-295 کا اطلاق ہوگا اور اس کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے ، یہ شخص پھانسی کے لائق ٹھہرتا ہے۔جو حضرت مسیح موعود کو حضور کہتا ہے، کیوں کہتا ہے اور حضور کا محاورہ سارے ہندوستان میں عام ہے اور مسلمہ کتب میں داغ دہلوی کی