خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 357 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 357

خطابات طاہر جلد دوم 357 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء صلى الله لکھتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ آنحضور عالم الغیب اور حاضر ناظر ہیں، یعنی آنحضرت ﷺہ خود خدا کے شریک ہیں اس لئے جب رسول اللہ کو خدا کا شریک بنالیا تو پھر شرک پر غصہ ان کو کیسے آسکتا ہے۔دیوبندی فرقہ کے متعلق اب فتوے سن لیجئے۔ان کے اہل علم کے جو ان بہتر فرقوں میں داخل ہیں۔فتاوی رشیدیہ جو دیوبندی مذہب حصہ اول صفحہ 19 پر یہ درج ہے۔یہ حوالہ لیا گیا ہے دیوبندی مذہب از مولانا غلام مہر شاہ گولڑوی کی کتاب سے اور فتاوی رشیدیہ یہ دیوبندیوں کی کتاب ہے۔رشید گنگوہی ان کے بہت بڑے اور چوٹی کے عالم کہلاتے ہیں۔ان کا یہ فتویٰ درج ہے کہ خدا تعالیٰ جھوٹ بولنے پر قادر ہے۔اللہ چاہے تو بیشک جھوٹ بول لے۔چوں کفر از کعبه برخیز و کجا مانند مسلمانی جن کا اللہ نعوذباللہ جھوٹا ہو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا ،سب کچھ جائز ہو جاتا ہے پھر۔ایسے بد بخت فتوے ہیں کہ ان کے تصور سے بھی انسان کی رگِ حمیت پھڑک اٹھتی ہے۔یہ مذہب ہے ان لوگوں کا، یہ باتیں کرنے والے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی عزت کا نام لے کر احمدیوں پر حملہ کرتے ہیں۔محض خون چوسنے والی جونکیں ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔کوئی ان کو دین کی غیرت نہیں ، نہ خدا کی ، نہ رسول کی۔آگے سنئے حفظ الایمان مصنفہ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مطبوعہ دیو بند صفحہ 9 پر اب اشرف علی تھانوی کا مرتبہ اور مقام تو کسی مبحث کا محتاج نہیں، یہ تو سارے مسلمہ طور پر ہندوستان کے دیو بندی علماء میں ایک چوٹی کا مرتبہ رکھنے والے ہیں۔لکھتے ہیں سنئے اب تک رسول : د محضرت عیہ کا علم بچوں اور مجنونوں اور جانوروں کے علم کے صلى الله برابر سمجھتے ہیں۔“ ایک طرف وہ بریلوی ہیں، جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے علم میں اور عالم الغیب ہونے میں خدا کے شریک ہیں۔دوسری طرف یہ دوسرے انتہا پسند ہیں جو ایسا بد بخت کلمہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد کسی غیرت اور حمیت کا دعویٰ کرنے والے کے لئے سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ ان لوگوں کے لئے ذرا بھی دل میں عزت اور احترام کا کوئی مقام رکھے، لیکن یہ جو فتوی دینے والے ہیں ان کے لئے تو لازم ہے کہ ان کے پیروکاروں سب کو تہہ تیغ کر دیں کیونکہ ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی فرقہ