خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 359

خطابات طاہر جلد دوم 359 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء کتابوں میں کثرت سے اس کا ذکر ملتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر حضور، حضور، آنحضور کا لقب بھی ملتا ہے۔صرف حضور ہی نہیں اور جہاں ایک احمدی مسیح موعودؓ کو عزت کے لحاظ سے حضور کہہ دیتا ہے تو کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی گستاخی ہوگئی۔لیکن آپ کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں شیطان کا علم حضور ﷺ صلى الله کے علم سے وسیع تر ہے اور حاجی امداداللہ رحمتہ للعالمین اور کسی کی گستاخی نہیں ہوئی۔آگے ان کی کچھ کشوف اور رویاء کے ذکر ملتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک کشف میں، رؤیا کی حالت میں حضرت فاطمۃ الزہرا کو اپنی ماں کے طور پر دیکھا اور اپنے آپ کو ایک بچے کے طور پر پایا۔جس نے آپ کے زانو سے سر لگایا، اتنا چھوٹا قد مقابل پہ دکھائی دیا۔رسول اللہ اللہ بھی ساتھ ہیں، حضرت علی کرم اللہ وجہ بھی ساتھ ہیں اور اس حالت میں آپ نے بیان کیا کہ مجھے شفقت مادری کے ساتھ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے سے لگایا اور میر اسر آپ کے زانو کو لگا۔پاکستان کی گلیوں میں ان بدبختوں نے لکھ لکھ کے منہ کالے کر دیئے ، کہ دیکھو کتنی بڑی گستاخی ہوگئی۔سب احمدیوں کو تہہ تیغ کر دو۔اور ان کا حال یہ ہے کہ بلغت الحیر ان بحوالہ دیو بندی مذہب صفحہ ۸ پر لکھا ہے۔دیوبندیوں نے نعوذ باللہ محمد رسول اللہ کو جہنم میں گرنے سے بچایا۔“ یہ شانِ رسول بیان ہو رہی ہے، کیا کہتے ہو اس کو ؟ کہاں ہیں گورنر پنجاب اور دیگر حکمران پاکستان۔ان کو کوئی ادنی حیا اور غیرت بھی باقی نہیں ، ان لوگوں سے دوستیاں ہیں، ان لوگوں کے ساتھ پہلو بہ پہلو چلتے ہو اور فخر سے کام لیتے ہو کہ یہ مولوی ہمارے ساتھ ہیں۔جن کے بزرگوں، جن کے بڑوں نے یہ یہ بد بختیاں کی ہوئی ہیں اور آج بھی ان کا یہی عقیدہ ہے کہ وہ بچے اور بزرگ لوگ تھے اور کوئی اور اس کی تشریح ممکن نہیں۔” براہین قاطعہ حوالہ دیوبندی مذہب صفحہ ۲۶ میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کواردوسیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔تو پتا ہے کس سے سیکھی؟ دیو بندیوں کے شاگرد ہوئے ، دیو بندیوں نے رسول اللہ ﷺ کو اردوسکھائی ہے۔بدبختی پر روئیں کہ، کہتے ہیں : حیران ہوں سر کو پیٹوں کہ روؤں جگر کو میں (دیوان غالب :۱۶۳)