خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 24
خطابات طاہر جلد دوم 24 24 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ﷺے کو اور اس قدر شدید اذیتیں پہنچائی گئیں آپ کے غلاموں اور آپ کے ماننے والوں کو کہ اُن کے تصور سے بھی آج بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ انسان کی ہمت اتنی بلند بھی ہوسکتی ہے۔صبر اور حوصلے کے پیمانے اتنے بڑے ہو سکتے ہیں کہ کوئی یہ ساری چیزیں خدا کی خاطر برداشت کرتا چلا جائے لیکن ان سب باتوں کے باوجود ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی یہ دعوت الی اللہ سے باز نہیں آئے۔وہ واقعہ یاد کریں جب ابو طالب نے حضرت محمد مصطفی امیہ کو ایک دن یہ کہا کہ اے محمد ! اب تو قوم تنگ آچکی ہے۔تم نے اس دعوت کی وجہ سے قوم کو بہت دُکھ دئے ہیں، ان کے صبر کے پیمانے اب لبریز ہو چکے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں سمجھا کر کسی طریق سے آمادہ کریں کہ جو کچھ تم پسند کرتے ہوا سے قبول کرو لیکن تمہیں اس دعوت سے باز رکھا جائے اور پھر کفار مکہ کی طرف سے کچھ پیشکش کی گئی کہ یہ یہ چیزیں وہ تمہاری خدمت میں پیش کرتے ہیں تم انہیں قبول کر لو۔اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو سارے عرب کی بادشاہت کی باگ ڈور تمہارے ہاتھوں میں دی جائے گی ، اگر تم مال و دولت کی تمنار کھتے ہو تو سارے عرب کی دولتیں سمیٹ کر تمہارے قدموں میں نچھاور کر دی جائیں گی ،اگر تم حسین عورتوں کی خواہش رکھتے ہو تو سارے عرب میں سے حسین ترین عورتیں تمہارے حرم میں داخل کر دی جائیں گی صرف ایک شرط ہے کہ تم دعوت الی اللہ سے باز آجاؤ جانتے ہو کہ ہمارے آقا ومولیٰ سرور دو عالم حضرت محمد مصطفی میں اللہ نے کیا جواب دیا ؟ آپ نے فرمایا۔اے چچا ! معلوم ہوتا ہے کہ آپ تھک گئے ہیں آپ میں میرا ساتھ دینے کی مزید سکت نہیں رہی لیکن میں ایک غلط فہمی دور کر دینا چاہتا ہوں۔اگر آپ کو یہ خیال ہو کہ آپ کی حفاظت کی وجہ سے میں دعوت الی اللہ کر رہا ہوں، اگر آپ کو یہ خیال ہو کہ آپ کے منہ کی خاطر عرب مجھ سے رکے ہوئے ہیں تو آج اپنی حفاظت واپس لے لیجئے۔مجھے اس حفاظت کی کوڑی بھر بھی پرواہ نہیں۔میں خدا کا ہوں اور خدا کی حفاظت میں رہوں گا۔پھر آپ نے فرمایا یہ کیا لا لچھیں دیتے ہیں۔خدا کی قسم اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دیں تب بھی میں خدا کی طرف بلانے سے باز نہیں آؤں گا۔(سیرت ابن ہشام ۱۹۹ تا ۲۰۱) پس ہماری سرشت میں تو یہ تعلیم داخل ہے۔اس مٹی سے گوندھے ہوئے ہم لوگ ہیں۔پھر