خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 23

خطابات طاہر جلد دوم 23 23 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء ساحروں کو جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ دیکھ کر قبول کیا، جب فرعون نے یہ دھمکی دی کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ کر پھینک دوں گا اور انتہائی دردناک عذاب دوں گاتم کون ہوتے تھے کہ میری اجازت کے بغیر اس شخص پر ایمان لے آؤ جبکہ اس ملک کی عنان میرے ہاتھ میں ہے، جبکہ میں بادشاہ ہوں اور میرے سوا اور کوئی بادشاہ نہیں۔جبکہ ساری طاقتیں میرے قبضہ میں ہیں تم کون ہوتے ہو کہ مجھ سے پوچھے بغیر اس موسیٰ پر جس پر بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے ہیں تم ایمان لے آؤ۔اُن کا جواب کتنا پیارا اور کتنا عظیم الشان اور کیسا ابدی زندگی رکھنے والا جواب تھا جو کبھی مر نہیں سکتا وہ جواب یہ تھا: لَا ضَيْرَ إِنَّا إِلَى رَبَّنَا مُنْقَلِبُونَ (الشعراء: ۵۱) کہ ہاں جو کچھ ہے کرو ہمارا کوئی نقصان نہیں۔ہمارا نقصان ہو نہیں سکتا کیونکہ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف چلے جائیں گے۔برے حال سے اچھے حال کی طرف منتقل ہو جائیں گے جس رب کی خاطر ہم جانیں دیں گے اسی رب کے حضور ہم نے حاضر ہونا ہے اس لئے ہمیں کس بات سے ڈراتے ہو۔پس اگر موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے وقت کے جابر بادشاہ کو یہ جواب دیا تھا تو آج محمد مصطفی کے غلاموں کا بھی یہی جواب ہے اور یہی جواب ہے اور یہی جواب ہے۔خدا کی قسم ! ہمارے بدنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں، انہیں کوؤں اور چیلوں کو کھلا دیا جائے ، ہمیں جلا کر خاکستر کر دیا جائے اور ہماری راکھ کو سمندروں کے پانیوں میں بہا دیا جائے تب بھی ہمارے ذرہ ذرہ سے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی آوازیں بلند ہوں گی۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف بلا نا بھول جائیں۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف بلانا چھوڑ دیں، یہ تو ممکن نہیں، یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔یہ تکلیف ہمیں نہیں دی جاسکتی کیونکہ ہمیں اس کی تعلیم نہیں ہے، یہ ہماری سرشت کے خلاف ہے۔اللہ کی خاطر اللہ کی طرف بلانے والے لوگ دنیا کی دھمکیوں سے نہ کبھی پہلے ڈرے ہیں نہ کبھی آئندہ ڈریں گے۔دیکھو! ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی یا اللہ نے ہمیشہ کے لئے یہ راستے طے کر کے معین فرما دئیے۔خدا کی طرف بلانے سے آپ کبھی نہیں رکے۔انتہائی دُکھ آپ کو دئے گے، انتہائی تکلیفیں آپ کو پہنچائی گئیں۔وہ جو سرور دو عالم تھا جس کی خاطر کا ئنات کو پیدا کیا گیا اس حال سے ملکہ کی گلیوں سے گزرا کہ سر پر خاک اور راکھ پھینکی جاتی تھی۔دنیا نے اتنے دُکھ دئے ہمارے