خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 25
خطابات طاہر جلد دوم 25 25 افتتاح لاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دُکھ اور تکلیفیں جن کے خوف سے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلام پیچھے نہیں ہے اور تادم آخر آخری سانس تک اپنے رب کی طرف بلاتے رہے ہم بے وفائی کریں اس آقا سے اور ہم اس بات سے پیچھے ہٹ جائیں یہ ممکن نہیں۔ہم جو تجدید عہد کر بیٹھے ہیں ہم جنہوں نے آج حضور اکرم ﷺ کے محبوب ترین روحانی فرزند مسیح موعود کو سچا سمجھا اور آپ کی باتوں پر ایمان لائے اور صلى الله آپ کے ہاتھ پر ان سارے نیک عہدوں کی تجدید کی جو اس سے پہلے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھوں پر کئے جاچکے تھے ہم کیسے باز آجائیں، ہم کیسے رُک جائیں۔دیکھو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس محبت اور کسی پیار سے خدا کی طرف بلایا ہے۔یہی دعوت ہماری ہے ہم بھی اسی خدا کی طرف اسی محبت اور پیار سے بلانے والے ہیں۔تمہیں ہماری ذات سے کوئی خوف نہیں۔ہم کبھی نفرت کی تعلیم نہ دیتے ہیں نہ دی ہے اور نہ آئندہ کبھی دیں گے۔ہمارا دعوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں صرف اتنا ہے کہ ”ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ پھل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ، کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تالوگ سُن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔(کشتی نوح - روحانی خزائن جلد : ۱۹ صفحه ۲۱ تا۲۲) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ جاؤ اور دنیا کو ان الفاظ میں اپنے رب کی طرف بلاؤ کہ ”ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں کا یقین نہیں رکھتے