خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 194
خطابات طاہر جلد دوم 194 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء حالات میں سے گزر کے آئے ہیں اور وہ کسی درد سے بے قرار ہوتے ہوئے وہاں زندگی بسر کر رہے ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔پس اپنی دعاؤں میں پاکستان کے احمدیوں کو یا درکھیں تو پہلے سے زیادہ بڑھ کر، دردمند ہوکر ان کے لئے دعائیں کریں۔ہمارے بے شمار اسیران راہ مولیٰ ہیں جو ایک لمبے عرصے سے شدید تکلیفوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور اُف تک زبان پر نہیں لاتے ، ان کو بھی بھولنا جرم ہوگا اور انسانیت سے گری ہوئی بات ہوگی۔اس لئے ہمیشہ ان کو بھی اپنی دعاؤں میں یا درکھیں، اللہ تعالیٰ ان کو حو صلے عطا فرمائے ، وہ ہمارا فرض کفایہ ہیں۔وہ قربانیاں جو ساری جماعت دینے کی حقدار ہے اور سزاوار ہے ، وہ قربانیاں وہ چند لوگ پیش کر کے آپ سب کی بلائیں اپنے گلے لئے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بہترین جزا دے، اس دنیا میں بھی ان کو نیک جزا سے بار آور فرمائے اور اُس دنیا میں بھی ان کو لا متناہی انعامات کا وارث بنائے۔اس دوران جیلوں میں احمدیوں نے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت سے نشانات بھی دیکھے اور جیلوں سے باہر بھی خدا تعالی کی پکڑ کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے اور جودشمن اپنے عناد اور شرارت میں بہت بڑھتے رہے ہیں، ان کو خدا کی تقدیر اب گھیر رہی ہے اور اس قسم کے واقعات کی بھی ایک بڑی فائل بنتی چلی جارہی ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ بعد میں کسی وقت طبع کروا کر احباب جماعت کے سامنے پیش کی جائے گی۔آپ کو حوصلے میں رکھنے کی خاطر، یہ بتانے کی خاطر کہ ہمارا جو خدا ہمیں دیکھ رہا ہے وہ خاموش نہیں دیکھ رہا بلکہ اس کی طرف سے مختلف رنگ میں پیار کے چھینٹے پڑتے ہیں، جنہیں دیکھ کر تمام اردگرد کے ماحول کے احمدی بھی نئے حوصلے پاتے ہیں اور ان کے ایمان کو نئی زندگی ملتی ہے۔ناظر صاحب امور عامہ لکھتے ہیں: ایک ہفتہ قبل ضیاء اللہ ولد رحمت اللہ سکنہ چک سکندر جو جماعت کا شدید مخالف ہے اور مولوی محمد امیر کا دست راست ہے۔یعنی وہ مجاہدین اسلام کے سرفہرست ہے، اس نے چک سکندر کی ایک لڑکی کو رقعہ لکھا، جس کا اس کے وارثان کو علم ہو گیا۔جس پر انہوں نے ضیاء اللہ کو بہت مارا، اس کے منہ پر گوبر