خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 195

خطابات طاہر جلد دوم 195 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء ڈالا اور اس سے ناک سے زمین پر لکیریں نکلوائیں، گاؤں والوں میں سے کسی نے اس کی مدد نہیں کی بلکہ لعن طعن کی۔مکرم افضل زاہد صاحب آف چک سکندر لکھتے ہیں کہ : "میرا برادر اصغرعزیز محمد اکمل جو چک سکندر کے اسیران راہ مولیٰ میں سے ایک ہے، اس نے 15 اور 16 کی درمیانی شب کو ایک خواب دیکھا۔جس میں اس نے دیکھا کہ ( یعنی قید کی حالت میں ) ایک دشمن احمدیت وارث ولد جلال آف چک سکندر جو چک سکندر کے سارے واقعہ میں لوٹ مار اور گھر جلانے میں، فائرنگ کرنے اور گالیاں بکنے میں پیش پیش تھا، اس کو مار رہا ہوں اور ڈنڈوں سے اس کی پٹائی کر رہا ہوں۔دوتین ڈنڈے پڑنے کے بعد وہ گر گیا اور میں اپنے گھر چلا آیا ، اب پتا نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔اس نے اپنی یہ خواب اپنی جیل کے سب ساتھیوں کو سنائی۔دوسرے دن سولہ دسمبر کی صبح ملاقات کے لئے آنے والے ایک شخص نے ان اسیران کو بتایا کہ محمد وارث جو کہ مخالفت میں پیش پیش تھا وہ آج ہی ایک گھر سے بجلی کا میٹر اتارتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں تھا، ایک رات قبل اس کو رڈیا میں یہ دکھا دیا گیا۔چوہدری محمد شریف صاحب جو آج اس مجلس میں بھی شریک ہیں، مرالہ ضلع گجرات کے رہنے والے وہاں کی جماعت کے صدر ہیں۔انہوں نے بھی بہت ہی صعوبتیں اٹھائی ہیں جیل میں، محض اس جرم میں کہ یہ مظلوم احمدیوں کی مدد کرنے والے تھے، با اثر تھے علاقے میں لوگوں کی دشمنی کے باوجود اور وہاں ضلع سیالکوٹ کے بد بخت ڈپٹی کمشنر کی انگیخت کے باوجود اس گاؤں کے لوگوں نے ان پر دشمنوں کو حملہ نہیں کرنے دیا۔اس کی وجہ سے طیش میں آکر D۔C نے ان کو قید کرنے کا خصوصی حکم دیا اور دفعہ وہ لگائی جو ڈ پٹی کمشنر کے خصوصی اختیار ہوتے ہیں جس پر کوئی بھی قانونی طور پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔تین مہینے تک کے لئے وہ مختار ہے جس کو چاہے امن عامہ کے خوف سے