خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 193
خطابات طاہر جلد دوم 193 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ برطانیہ ۱۹۹۰ء رور ہا تھا، گود میں اٹھائے ہوئے بہلا رہی تھیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ بچہ کیوں رورہا ہے؟ وہ خاموش رہیں۔جب بچہ بہت دیر تک روتا رہا تو عاجزہ نے اصرار سے پوچھا کہ بچے کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟ اس کی والدہ کے جواب نے مجھے ایک لمحہ کے لئے ہلا کر رکھ دیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ ے ابو آئیں گے تو کھانا کھاؤں گا۔“ لکھتی ہیں کہ ”میری حالت تو ایسی تھی کہ نا قابل بیان تھی مگر والدہ بڑے حوصلے 66 میں تھیں اور مستقل بچے کو بہلائے چلے جارہی تھیں۔“ پھر لکھتی ہیں: چک سکندر کی دس سالہ شہید بچی عزیزہ نبیلہ کی والدہ کی عظمت کا اعتراف کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتی کہ بڑے حوصلے سے انہوں نے بتایا کہ کیسے ان کی بچی کو گولی کا نشانہ بنایا گیا اور وہ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک پانی کے لئے تڑپتی رہی مگر ظالم درندوں نے اسے پانی پلانے کی اجازت بھی نہ دی۔مکرم نذیر نا قب صاحب شہید کی بہن اور خالہ بھی اپنے عظیم بھائی اور بھانجے کی بہادری اور شہادت کے واقعات بڑے صبر سے بتاتی رہیں کہ جب ان کے بھائی کو پولیس والے نے دھوکہ سے نیچے بلایا تو انہوں نے اترتے وقت یہ الفاظ کہے کہ میرے پیارے امام کا حکم ہے کہ حکومت کی اطاعت کرنی ہے، جب انہیں گولی کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور آخری جملہ یہ فرمایا کہ مجھے جس موت کی خواہش تھی وہ خدا نے پوری کر دی۔“ یہ واقعات جو ہیں یہ تو صرف نمونے مشتے از خروارے ہیں ان میں سے چند نمونے جو ایک سال میں لاکھوں خطوں میں سے میں نے وہ اقتباس اکٹھے کئے ہیں جو غیر معمولی اثر رکھنے والے اور دشمنوں کی غیر معمولی سفا کی کے ذکر پر مشتمل ہیں اس کی ایک بہت بڑی فائل بن گئی ہے اور میں صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو پاکستان سے دوست یہاں تشریف لائے ہیں ، آپ دیکھیں کہ وہ کن