خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 155
خطابات طاہر جلد دوم 155 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۸۸ء صرف ایک تبصرہ ایک احمدی دوست کا آپ کو سنا تا ہوں ہمارے مربی سلسلہ جو انگلستان ایسٹ لندن میں کام کرتے ہیں مجید سیا لکوٹی صاحب انہوں نے جب یہ خبر سنی کہ اسلم قریشی صاحب کی بازیابی اور زندہ سلامت بچ جانے کی تو انہوں نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا۔انہوں نے کہا مباھلے سے لوگ مرتے تو دیکھے تھے زندہ ہوتا پہلی دفعہ دیکھا ہے میں نے کہا تم نے زندہ ہونا تو دیکھا لیکن اس ایک کے زندہ ہونے سے جو سارے مر گئے ان کو نہیں دیکھا۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُن بشارات میں سے پڑھ کے سناتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے آپ کو ۱۸۸۲ء کے مباہلے کے چیلنج کے ساتھ آپ کو عطا فرمائیں۔تا کہ آج کی دعا میں آپ اس بات کو خصوصیت کے ساتھ ملحوظ رکھیں کہ خدا سے التجا کریں کہ خدا یا ساری بشارتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو تو نے عطا کی تھیں آج ہمارے حق میں بھی پوری ہوں کیونکہ ہم نے بھی خالصتاً اپنے نفسوں سے آزاد ہو کر اور پاک ہو کر تیری رضا اور تیری اور تیری حمیت کی خاطر یہ مباھلہ کیا ہے اور کامل طور پر تجھ پر توکل کرتے ہیں۔اس لئے آج ان بشارتوں کو ہمارے حق میں بھی ظاہر ہوئی تا کہ دنیا پر خوب کھل جائے کہ دین کس کا دین ہے اور جھوٹ کس کے ساتھ ہے۔دنیا پر خوب کھل جائے کہ حضرت محمد مصطفی اس کے بچے عاشق کون ہیں اور آپ کے نام کو رزق کمانے کا بہانہ کرتے ہوئے اسلام کو ذلیل و رسوا کرنے والے لوگ کون ہیں؟ قرآن کریم فرماتا ہے کیا تم تکذیب کو رزق کمانے کا ذریعہ بناتے ہو۔آج دنیا میں کون ہے ساری دنیا پر نظر ڈال کر دیکھ لیں جس نے تکذیب کو حصول رزق کا ذریعہ بنایا ساری دنیا میں جماعت احمدیہ پر یہ الزام نہیں لگا سکتے کسی عیسائی پر نہیں لگا سکتے کسی ہندو پر نہیں لگا سکتے، کسی قوم پر نہیں لگا سکتے۔نہ چین پر، نہ جاپان پر نہ امریکہ پر، نہ روس پر، نہ کوریا پر، نہ جنوبی امریکہ پر نہ افریقہ کے ممالک پر۔صرف ایک ٹولہ ہے احمدیت کے مخالفین کا ٹولہ ہے جنہوں نے تکذیب کو رزق کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور قرآن کریم نے چودہ سوسال پہلے یہ خبر دے رکھی تھی وَ تَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعہ: ۸۳) کیا یہ رزق کا ذریعہ ہے شرم نہیں آتی ایسا رزق کھاتے ہوئے کہ جو خدا کے پاک لوگوں کو جھٹلا کر کھاتے ہو۔اس لئے میں کامل یقین کے ساتھ اب حضرت مسیح موعود کی وہ بشارتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور اس کامل یقین کے ساتھ کہ ہماری الحاح اور گریہ وزاری کو قبول فرماتے ہوئے ان بشارتوں کو