خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 156
خطابات طاہر جلد دوم 156 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۸ء آج بھی ہمارے حق میں پوری فرمائے گا۔وہ الہام جو ۱۸۹۲ء کے مباھلے کے ساتھ اس کے پس منظر میں آپ کی پشت پناہی کرتے ہوئے کریں وہ یہ ہے۔حق آئے گا اور صدق کھل جائے گا اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے۔تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا۔مگر وہی جو رشد رکھتے ہیں ہم پھر تجھ کو غالب کریں گے اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کر دیں گے۔نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا۔خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا اور تیرے برہان کو روشن کر دے گا اور تجھے ایک بیٹا عطا ہو گا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا اور میرا نور نزدیک ہے اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں تو ان کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے اس کے ایسے ہی کام ہیں جن کو چاہتا ہے اپنے مقربوں میں جگہ دیتا ہے اور میرے فضل سے نومیدمت ہو یوسف کو دیکھ اور اس کے اقبال کو فتح کا وقت آ رہا ہے۔فتح قریب ہے۔مخالف یعنی جن کیلئے تو بہ مقدر ہے اپنی سجدہ گاہوں میں گریں گے کہ اے خدا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔آج تم پر کوئی سر زنش نہیں۔خدا تمھیں بخش دے گا اور وہ الرحیم اور الرحمن ہے۔“ ( تذکرہ:۱۷۲) آئیے اب دعا کر لیتے ہیں۔حضور نے لمبی اور پرسوز دعا کروائی اور دعا کے اختتام پر فرمایا:۔اب میں آپ سے اجازت چاہوں گا باقی دوست یہاں تشریف رکھیں اس افتتاحی تقریر کے معابعد بقیہ جلسہ کی کارروائی شروع ہوگی۔