خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 154
خطابات طاہر جلد دوم 154 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۲۲ ؍ جولائی ۱۹۸۸ء ہاتھوں نہیں مارے جاتے ، بڑے کھلے طور پر واضح طور پر نشان سورج کی طرح چمکتا ہوا ظاہر ہوتا ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ اس میں انسان کے ہاتھ کی کوئی کارروائی شامل نہیں ہے ان معاندین کے جنہوں نے مسیح موعود علیہ السلام کی گستاخی اور ان معاندین میں جنہوں نے بدکلامی میں تمام دوسرے علماء کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ایک شخص منظور چنیوٹی صاحب ہیں۔حد سے زیادہ بدگو اور بد کلام اور چھوٹی ذات کے آدمی ہیں نعوذ باللہ من ذلک، میری ہرگز یہ مراد نہیں کہ چونکہ ترکھان ہیں اس لئے چھوٹی ذات کے آدمی ہیں۔قرآن کریم کے مطابق ذات ہرگز چھوٹی ذات ہونے کی نشانی نہیں بلکہ یہ بیان کیا جاتا ہے روایات میں کہ خود حضرت نوح خدا کے نبی تھے اور ترکھان بھی تھے اس لئے ہرگز یہ غلط نہ سمجھیں۔انسان اپنی عادات سے کمینہ بنتا ہے۔پس جب میں چھوٹی ذات کہتا ہوں تو میں ان کی ذات کہتا ہوں ان کی ساری حرکتیں کمینوں والی ہیں۔سفلا نا عادتیں ہیں اور اس قدر بے باک ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام پر گندا چھالنے اور احمدیوں کی دل آزاری کرنے میں شاذ ہی ایسا بے باک مولوی پیدا ہوا ہو گا۔خدا تعالیٰ نے ان کی ذلت کا تو فوری سامان کروا دیا ہے۔یہ وہ پہلے شخص ہیں یا دوسرے ہوں گے آغاز ہی میں جنہوں نے مباہلے کے اس چیلنج کو قبول کیا اور اس بات کو بھول گئے کہ جب مجھے پر اسلم قریشی کے قتل کا الزام لگایا کرتے تھے تو اخبار میں یہ اعلان بھی شائع کروایا کہ اسلم قریشی کی گمشدگی کے سلسلے میں مرزا طاہر احمد کو شامل تفتیش کیا جائے ہم نے حکومت کو چھ آدمیوں کے نام تفتیش کے لئے دیئے تھے جن میں مرزا طاہر احمد بھی شامل ہیں۔اگر چھ میں سے ملزم برآمد نہ ہو تو ہم سر بازار گولی کھانے کو تیار ہیں۔پس یہ تو کھل گئی بات کہ ان کے چھ میں سے تو ان کا ملزم گرفتار نہیں ہوا اگر عالم دین ہیں اگر کوئی تقویٰ ہے اگر سچائی سے کوئی تعلق ہے تو پھر سر بازار گولی کھانے کے لئے حکومت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کریں اور ان کو یہ بھی دعوی ہے کہ ان کے مریدان سے بہت محبت رکھتے ہیں اور ان کی نافرمانی کی جرات نہیں کرتے تو اگر حکومت آمادہ نہ ہو تو اپنے مریدوں میں سے بلائیں بچے تو ہو کر دکھا ئیں۔جب تک یہ سر بازار گولی نہیں کھاتے خدا کی تقدیر کی گولی ان کو لگ چکی ہے اور یہ کبھی دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتے۔تبصرے تو اور بھی بڑے دلچسپ ہیں لیکن میں اب ان تبصروں کو ختم کرتا ہوں۔