خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 11
خطابات طاہر جلد دوم 11 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء جہاں تک آنحضور ﷺ کی مسجد کا تعلق تھا ایک طرف تو لوگ مسلمانوں کی مسجدیں ویران کر رہے تھے۔اُن کو اپنی مسجدوں میں بھی نماز نہیں پڑھنے دیتے تھے لیکن آپ کا اُسوہ حسنہ یہ تھا کہ دس ہجری میں جب نجران کے عیسائیوں کا وفد حاضر ہوا جو ساٹھ سواروں کے قافلہ پر مشتمل تھا۔وہ لوگ عصر کے وقت مسجد نبوی میں پہنچے اُس وقت اُن کی نماز کا وقت تھا۔حضرت نبی کریم اللہ نے ان کو عیسائی طریق پر نماز پڑھنے کی مسجد نبوی کے صحن میں اجازت دے دی۔چنانچہ انہوں نے اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔بعض مسلمانوں نے ان کو مسجد نبوی کے صحن میں عبادت کرنے سے روکنا چاہا تو آنحضور ﷺ نے ان کو منع فرمایا۔اس طرح طائف بنو ثقیف کا ایک وفد آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ مشرک لوگ تھے۔آپ نے اُن کو مسجد نبوی کے صحن میں خیمہ زن ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اس پر بعض صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ارشاد الہی میں نہیں آتا کہ اِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ (التوبه: ۲۸) کہ مشرکین تو نجس لوگ ہیں۔آپ کی مسجد اور مشرکین یہاں آ کر خیمے لگائیں۔یہ تو مسجد کو نا پاک کر صلى الله دیں گے۔آنحضور ﷺ نے بہت پیارا جواب دیا۔آپ نے فرمایا شرک کی نجاست خدا کی زمین کو ناپاک نہیں کیا کرتی وہ اپنے ہی وجود کو نا پاک کیا کرتی ہے۔(احکام القران جلد ۳ صفحہ ۱۶) حج سے بھی مسلمانوں کو روکا گیا۔چنانچہ قرآن کریم میں اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءَ الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَنْ يُرِدْ فِيْهِ بِالْعَادِ بِظُلْمِ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (امج :٢٢) کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو۔یہ بیت الحرام سے روکنے لگے ہیں جو تمام بنی نوع انسان کے درمیان ہم نے برابر بنایا ہے لیکن اس کے باوجود اگر الحا داور ظلم کی راہ سے یہ روکیں گے تو ہم ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عذاب الیم یعنی درد ناک عذاب دیا جائے گا۔پھر فرماتا ہے: