خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 10
خطابات طاہر جلد دوم 10 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء ابن دغنہ نے آتے ہی کہا کہ ابو بکر ! میں نے تمہیں اس لئے تو پناہ نہ دی تھی کہ تو میری قوم کو دُکھ پہنچائے۔تو اتنادُ کھ پہنچا رہا ہے کہ اپنے صحن خانہ میں مسجد بنالی ہے اور تلاوت کرتا ہے۔حضرت ابو بکر نے جواب میں اس سے کہا کہ میں تو اپنے رب کو یاد کرتا ہوں ، تلاوت کرتا ہوں میں تو کسی کو دُکھ نہیں دیتا۔ہاں اگر تو یہ چاہتا ہے کہ میں تیری پناہ تجھ کو لوٹا دوں تو میں اس کام سے باز نہیں آؤں گا۔ہاں تیری پناہ تجھ کو لوٹا دوں گا۔اس پر ابن دغنہ نے کہا کہ ہاں میری پناہ مجھ کو واپس کر دے۔تب ابو بکر نے کہا میں تیری پناہ تجھ کو واپس کرتا ہوں۔صلى الله ایک طرف یہ کیفیت تھی۔دوسری طرف حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا رد عمل ان لوگوں کے حق میں کیا تھا۔آپ کا اتنا بڑا حوصلہ تھا، ایسا وسیع دل تھا، ایسی ہمدردی کا جذ بہ آپ کے دل میں پایا جاتا تھا کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔دنیا کے تمام معاملات اور اخلاق میں عام لوگوں سے تو در کنارا اپنے شدید دشمنوں کے ساتھ بھی رواداری کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آنحضور یہ احتراماً کھڑے ہو گئے۔صحابہ نے سمجھا کہ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔آپ نے فرمایا ہاں مجھے پتا ہے یہودی کا جنازہ ہے لیکن یہ رواداری کا تقاضا اور اخلاقی فرض ہے اس کے بغیر انسانیت کی قدریں مکمل نہیں ہوتیں۔اس لئے آنحضور یہ اس علم کے باوجود یہودی کا جنازہ آنے پر احتراماً کھڑے ہو گئے۔پھر آپ کے جذ بہ رواداری کا یہ حال تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق آپ نے اپنی قوم کو ہدایت دی کہ ٹھیک ہے میں افضل الانبیاء ہوں۔میں خاتم النبین ہوں لیکن جب تم مجھے موسیٰ سے افضل کہتے ہو تو بعض لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے اس لئے میرے اس حق کے باوجود لَا تُخَيَّرُونِى عَلى موسى ( بخاری کتاب الانبیاء باب وفات موسیٰ علیہ السلام ) مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دیا کرو۔مراد یہ تھی کہ یہود کے سامنے بلا وجہ اس ذکر کی ضرورت نہیں پھر حضرت یونس بن متی ایک عام نبی ہیں نبیوں میں ان کا کوئی بہت بڑا مقام نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی برابری کریں لیکن اس کے باوجود بعض لوگوں کے دل میں حضرت یونس بن متی کی بڑی قدرتھی اور بڑی محبت پائی جاتی تھی۔چنانچہ ان کے متعلق آنحضور ﷺ نے فرمایا۔مجھے یونس بن متی پر فضیلت نہ دیا کرو۔