خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 12
خطابات طاہر جلد دوم 12 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ إِنَّ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) (الانفال: ۳۵) ان کو کیا ہوگیا ہے۔یہ اس غلط انہی میں مبتلا ہیں کہ باوجود اس کے کہ مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ سے لوگوں کو روک رہے ہیں پھر بھی اللہ ان کو عذاب نہیں دے گا۔حالانکہ وہ درحقیقت اس کے متولی نہیں۔خدا کے نزدیک اس کے متولی صرف وہی ہیں جو متقی ہیں لیکن افسوس کہ اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔یہاں تک نظریات میں اختلاف ہوا کہ دوسروں کے گھروں کو بھی اپنے گھر بنا کر رہنے کی اجازت نہ دی گئی۔یعنی عددی اکثریت کا عجیب قسم کا دعویٰ تھا کہ نہ تمہیں اپنے مذہب کا نام رکھنے کی اجازت ہے۔نہ تمہیں اپنے خدا کی عبادت کا حق ہے نہ تمہیں اپنی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہے اور جو تم نے اپنے گھر تعمیر کئے ہیں وہ بھی تمہارے نہیں ہیں۔اُن پر بھی ہمارا حق ہے تمہاراحق نہیں۔چنانچہ اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوْذُوْا فِي سَبِيلِى وَقْتَلُوا وَقُتِلُوْا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ وَ لَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ (آل عمران : ۱۹۲) که محمد مصطفی میں ہے اور آپ کے ساتھی وہ لوگ ہیں جن کو خدا کی خاطر ہجرت اختیار کرنی پڑی اور ان کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا۔عبدالله ذو البجادين۔یتیم تھے ، اپنے چچا کے ہاں پلے وہ ان پر احسان کرتا رہا لیکن جب اس کو یہ خبر ملی کہ عبداللہ نے حضرت محمد مصطفی اللہ کے دین کی اتباع کر لی ہے تو اس حالت میں اُن کو گھر سے نکال دیا کہ ان کے تن بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔وہ اپنی ماں کے پاس آئے اور اس سے ایک چادر مانگی اور اس کے دوٹکڑے کئے۔ایک تہ بند بنایا اور ایک او پر قمیض کے طور پر اوڑھنے کے لئے لے لیا اور یہی اُن کی جائیداد تھی جسے لے کر وہ خوش و خرم حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر