خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 117
خطابات طاہر جلد دوم 117 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء ایک صاحب جن کا میں نام نہیں لیتا۔خواب کے ذریعے احمدی ہوئے۔پہلے شدید مخالفت کرتے تھے ، اُن کا خاندان بھی جماعت کا سخت مخالف ہے۔جو دوسرے غیر از جماعت دوست ہیں ، اُن کا خیال تھا کہ جب اس کے گھر والوں کو پتا چلے گا تو اسے گھر میں داخل بھی نہیں ہونے دیں گے۔یعنی آزاد ہونے کے بعد ، خود اُن کو بھی اس بات کا فکر تھا لیکن انہوں نے کہا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔شروع میں وہ کچھ تر ڈ دکر تے رہے اور گھر والوں کو اطلاع نہ دی لیکن ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ بہر حال میں نے اپنے گھر کو یہ اطلاع کرنی ہے پھر جو بھی ہو، وہ ہو مجھے اُس کی پرواہ نہیں۔خط لکھ کر ابھی رکھا ہی تھا کہ ان کے بھائی اُن کو ملنے کے لئے آگئے۔چنانچہ انہوں نے وہ خط بھی اُن کے سامنے رکھا اور اُن کو کہا کہ اب آپ جو چاہے کریں، میں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے روشنی دکھائی ہے، میں اُس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، میں اسے قبول کر چکا ہوں اور اس راہ میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ان کے بھائی نے کہا تم نے اب قبول کی ہے احمدیت، میں تو مہینہ پہلے سے کر چکا ہوں ، اُسے دوبارہ گلے لگایا۔لیکن ایک اور بھائی چارے کی محبت تھی جو اسلام کا بھائی چارا تھا، وہ لطف ہی اور تھا جو دوبارہ اس کو سینے سے لگایا اور بتایا کہ میں نومبر کی گیارہ تاریخ سے احمدی ہو چکا ہوں۔الحمد للہ کہ تم بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اس نور کو پاگئے۔ایک دوست ملتان جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہے تھے۔ویسے اپنے علاقے کے بڑے معزز اور طاقتور انسان کہلاتے تھے لیکن شریکا چلتا ہے، دشمنیاں ہوتی ہیں ، ان کو ایک مقدمے میں ملوث کیا گیا، قتل کے مقدمے میں اور عمر قید کی سزا ملی۔ایک دن اچانک ان کو خیال آیا کہ جماعت احمدیہ کے جو اسیر یہاں ہیں ان کی تو حالت ہی اور ہے، ان کے رنگ ہی اور ہیں۔میں دیکھوں تو سہی کہ یہ کیا کہتے ہیں اور ان کا فی الحقیقت مذہب کیا ہے۔انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ کی کوئی تفسیر دو کیونکہ میں تفسیر کے ذریعہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ