خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 116
خطابات طاہر جلد دوم 116 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء نے بڑے اخلاص کے ساتھ احمدیت کو سچا سمجھتے ہوئے قبول کیا اور قبول ہی نہیں کیا بلکہ اپنے گرجے کو خدائے واحد کی عبادت کے لئے پیش کر دیا۔پس اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ایک ملک کا یہ حال ہے کہ مسجدوں پر حملے ہورہے ہیں اور جب تک ان کے قبلے تبدیل نہ ہوں اُن کو چین نہیں آتا۔مسجدوں کو سنگسار بھی کیا جارہا ہے، ان کو آگیں بھی لگائی جارہی ہیں اور جہاں جہاں بس چلتا ہے سر بمہر کر دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں خدا کی عبادت ان کو تکلیف دیتی ہے اور دنیا میں خدا کی تقدیر اس کا بدلہ اس طرح لے رہی ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو بکثرت مساجد عطا کر رہا ہے یہاں تک کہ گرجے بھی خود عیسائی پادری جماعت احمدیہ کو مسجد بنانے کے لئے پیش کر رہے ہیں۔قید و بند میں جولوگ ڈالے گئے ، جن کے لئے زندہ باد کے بڑے محبت بھرے اور پُر درد نعرے ابھی آپ نے لگائے ، وہ قید میں بھی ایسے مزے لوٹتے رہے ہیں کہ جن کا باہر والے تصور نہیں کر سکتے۔انہوں نے سنت یوسفی کو وہاں زندہ کیا اور خدا تعالیٰ کی اُس تقدیر رحمت کو جاری ہوتے دیکھا جو ہزاروں سال پہلے حضرت یوسف کے زنداں خانے میں جاری ہوئی تھی۔وہ لوگ جو وہاں قید تھے، اُن میں ایک ہمارے مربی سلسلہ بھی تھے سکھر کی بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ تبلیغ کے ذریعے ہی نہیں خوابوں کے ذریعے خدا تعالیٰ وہاں قیدیوں کو مسلمان بنا رہا ہے یعنی سچا مسلمان اور بعض قیدی محض خدا تعالیٰ کی طرف سے مبشر رویا دیکھنے کے نتیجے میں قید کے اندراحمدیت قبول کر رہے ہیں اور آٹھ بیعتیں ہوچکی ہیں اس قید خانہ میں۔اُن میں سے ایک قیدی جو اس وقت یہاں موجود ہیں، وہ آزاد ہو کر یہاں تشریف لا چکے ہیں۔انہوں نے اپنے خط میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ خدا کی قسم اب تو ایسا دل لگ گیا ہے یہاں کہ یہاں سے جانے کو دل نہیں چاہتا۔یہ موجیں کہ تبلیغ اور پھر کامیاب تبلیغ اور پھر یہ لط یہ لطف کہ اللہ کی تقدیر آسمان سے ہماری مدد کر رہی ہے اور رؤیا دکھا دکھا کر لوگوں کو اس طرف مائل کر رہی ہے یہ باتیں باہر تو میں نے کبھی دیکھی بھی نہیں تھیں۔جب وہ قید سے باہر تھے تو وہ درمیانے سے احمدی تھے، اچھے تھے لیکن بہر حال درمیانے سے تھے۔قید میں جا کر تو وہ کندن بن کے نکلے ہیں ماشاء اللہ۔ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں مربی صاحب کہ