خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 118

خطابات طاہر جلد دوم 118 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۶ء وہ اللہ والا تھایا کوئی اور چیز تھی۔چنانچہ ان کو سورہ فاتحہ کی تفسیر دی گئی اور ساتھ ہی ان کو انہوں نے سمجھایا کہ اگر تم اس قید سے نجات چاہتے ہو تو دعا کا ایک ذریعہ ہے،اگر تم آزمانا چاہتے ہوتو ہمارے امام کو دعا کے لئے خط لکھو اور اس کے نتیجے میں ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ فضل فرمادے۔تفسیر سورۂ فاتحہ کا گہرا اثر ان کے دل پر تھا کہ اچانک ایک دن ایک عجیب واقعہ ہوا ، ان کو میری طرف سے خط ملا کہ میں نے آپ کے لئے دعا کی ہے اور میں اللہ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان فرمادے گا اور اسی دن جیل کے داروغہ نے ان کو آ کر اطلاع دی کہ آپ کی عمر قید میں دس سال کی کمی کر دی گئی ہے۔یہ دوست لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ زار و قطار رو رہا تھا اور اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہورہا تھا۔یہ حیرت انگیز واقعہ میں نے دیکھا ہے اس کے بعد اب کون ہے جو مجھے احمدیت سے منحرف کر سکتا ہے۔ایک اور واقعہ بھی میں آپ کو بتا تا ہوں جس کا پاکستان سے تعلق نہیں مگر میرا ایمان ہے کہ پاکستان کے اسیران راہ مولیٰ کی آہوں کا اثر ضرور ہے۔عبدالوہاب بن آدم صاحب غانا کے امیر لکھتے ہیں کہ امسال ” بنکر و ہو ، پتا نہیں تلفظ غلط ہو تو مجھے غانا والے معاف فرمائیں۔وہاں مقیم ایک دوست یعقوبو نامی ہمارے ایک سرکٹ مبلغ کے پاس آ کر بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔یعقو بو اپنے علاقہ میں بوجہ انتہائی باغیانہ اور سرکش طبیعت رکھنے کے مشہور تھے۔مارکٹائی، دنگا فساد کی وجہ سے پورے علاقے میں بدنام تھے حتی کہ بارڈر کی پولیس بھی اُن سے ڈرتی تھی اور شراب کے رسیا ایسے کہ علاقے میں مشہور تھا کہ کسی کا نشہ ٹوٹا ہو تو اس کا سانس سونگھ لے اس کو نشہ آ جائے گا، ہر وقت بدمست رہتے تھے۔ان کی بیعت پر وہاں تعجب ہوا اور نہ صرف یہ کہ ان کی بیعت پر تعجب ہوا بلکہ اس بات پر کہ اچانک اُن کی کایا پلٹ گئی ، تمام بدیوں کی جگہ حسن نے لے لی، ایک ایک بدی کی بجائے انہوں نے ایک ایک نیکی اختیار کر لی اور اتنے معزز ہوئے کہ علاقے کے چیف اور وزیر اعلیٰ تک اُن سے مشورہ لینے کے لئے جایا کرتے تھے۔اُن سے کسی نے پوچھا کہ بتاؤ آخر یہ کیوں تبدیلی واقعہ ہوئی تو اُس نے کہا کہ واقعہ