خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 436
خطابات طاہر جلد دوم 436 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء دیکھے گا اور وَالْعِیدُ اقْرَب اور عید قریب ترین ہوگی۔مراد یہ ہے کہ عید اس دن سے ملی ہوئی ہوگی۔جس دن یہ واقعہ ہو گا۔گویا معتین طور پر اُس دن کی بھی خبر دے دی۔جس دن یہ واقعہ رونما ہونے والا ہے۔۱۸۹۷ء میں جو عید آئی وہ جمعہ کے دن تھی اور اُس کے ساتھ ہفتے کا دن تھا جو ملحق تھا۔ستعرف يوم العيد والعيد اقرب اُس عید کو پہچان لے گا کیونکہ اس واقعہ کے دن وہ عید قریب ترین ہوگی۔جو ہفتے کا دن بنتا ہے۔ہفتے کے دن جو واقعات رونما ہوئے وہ یہ تھے کہ لیکھر ام اپنے مکان کی بالائی منزل پر بیٹھا ہوا سوامی دیانند کی سوانح عمری لکھ رہا تھا اور اُس کے پاس ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا تھا جس نے لیکھرام کو یہ بیان دیا تھا کہ میں پہلے ہندو ہوا کرتا تھا۔پھر مسلمان ہو گیا اور پھر مسلمان سے دوبارہ میں آپ کے ہاتھ پر ہندو ہوتا ہوں۔یہ شخص کبھی کبھی لیکھر ام کو آ کے ملا کرتا تھا اور اُس دن وہ آیا اور اُس نے کمبل اوڑھا ہوا تھا اور لیکھر ام کے پاس حاضر ہوا اور اُس نے اُس کو بلا کر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور یہ سوامی دیانند کی تاریخ لکھنے لگا۔اُس کے ساتھ اُس صحن کے پر لی طرف دروازے بند تھے۔جن میں اُس کی بیوی اور ماں تھے اور نیچے بازار بس رہا تھا۔جو آریوں کا بازار تھا اور آریوں پر ہی زیادہ سمل تھا۔پر لی طرف سیدھی دیوار تھی۔جس پر سے چھلانگ لگانے والا بچ نہیں سکتا تھا اور دوطرف پختہ دیواریں گھری ہوئی تھیں۔گویا اس شخص کے نکل بھاگنے کا کوئی رستہ نہیں تھا۔جب لیکھرام نے وہ تصنیف مکمل کی اور آخری فقرہ لکھ کر اپنے ہاتھ انگڑائی کے لئے اونچے کئے اُس وقت اس نے خنجر کا اُس پر وار کیا اور اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں اور جگہ جگہ سے کٹ گئیں۔لیکھرام کی چیخ اور دہائی سن کر اُس کی ماں اور اُس کی بیوی دوڑے اور اُنہوں نے اس شخص کو دیکھا۔اُس وقت تک یہ وہیں تھا اور اُس کا دیکھنا الہی تقدیر کے مطابق تھا جو بعد میں میں بیان کروں گا۔اس شخص نے اس کے ہاتھ میں جو چیز تھی اُس کی ماں کے سر پر ماری اور وہ بے ہوش ہو کر جا پڑی اور پھر یہ نکلا ہے اس دہائی کے بعد، نیچے بازار والوں نے کہا کہ ہمارے پاس سے تو کوئی گزر کے نہیں گیا۔وہ شخص او پر چڑھ گیا ہوگا۔چھت پر جاکے دیکھا تو وہاں سے نیچے اترنے کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی۔یعنی دومنزلہ مکان کی چھت کے اُوپر سے وہ اگر گر تا تو اُس کی ہڈیاں، پسلیاں ٹوٹ جاتیں۔لیکن اُس کا کوئی نشان نہیں تھا ہر طرف تلاش کی گئی۔لیکھرام کو ہسپتال پہنچایا گیا مگر اُس شخص کا کوئی نام ونشان نہیں ملا اور پولیس چھان بین کے باوجود اُس کو مہیا نہ کرسکی لیکھرام کے منہ سے اُس وقت بیل کی طرح نہایت زور کی آواز نکلی۔حضرت مسیح موعود