خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 437
خطابات طاہر جلد دوم 437 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء کے الفاظ یہ تھے کہ وہ ایک گائے کے بچھڑے کی طرح ہے جس کے اندر سے خوار یعنی بچھڑے کی آواز نکلے گی۔بیوی ، ماں دوڑے۔لیکھرام کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔شام کا وقت تھا۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب یہ احمدی تھے۔وہ ڈیوٹی پر تھے اور ڈاکٹر پیری جو انگریز ڈاکٹر تھے۔جنہوں نے آ کر آپریشن کرنا تھا وہ موجود نہیں تھے۔ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے پیغام بھیجا۔ڈاکٹر پیری آخر آ پہنچا اور اُس نے آپریشن کیا اور آپریشن کے دوران جب وہ ڈاکٹر یعقوب صاحب کو مرزا صاحب کر کے مخاطب ہوتا تھا۔تو لیکھرام کانپنے لگتا تھا۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب یہاں بھی پہنچ گئے ہیں اور اس حالت میں بہت ہی کرب کے ساتھ تڑپ تڑپ کے اُس نے جان دی۔جب لیکھر ام کے ساتھ یہ واقعہ گزر گیا تو اُس کی لاش جلا دی گئی اور دریا میں بہا دی گئی۔جس طرح پہلے سامری کی لاش جلائی گئی تھی اور عِجُلٌ جَسَدٌ لَّهُ خَوَارٌ ( تذكره :٢٠٠) اُسی بچھڑے کے متعلق قرآن کریم کی آیت ہے۔یہی الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا تھا جس سے ایک اور مماثلت اور الہی تائید حاصل ہوئی۔یعنی لیکھرام جو بولتا تھا وہ بچھڑے کی طرح ڈکارتا تھا اور اس کے سوا اس کے منہ سے کوئی واضح کھلی بات سمجھ نہیں آتی تھی اور اُس کی لاش کو بھی جلا دیا گیا خاکستر کر دیا گیا اور اُس کی راکھ پانی میں بہا دی گئی۔یہ پیشگوئی جب پوری ہوئی اور بڑی شان کے ساتھ عین وقت کے مطابق ، تاریخوں کے مطابق سو فیصدی درستی کے ساتھ پوری ہوئی تو ہند و اخباروں نے بہت شور مچایا اور انہوں نے حکومت کو توجہ دلائی کہ اس نے یعنی حضرت مسیح موعود نے واقعہ سے پہلے کیسے وہ بیان دیا جس کا ایک ایک لفظ سچا نکلا۔اس کو کیسے پتا چلا کہ بعینہ یہ واقعات ہوں گے۔اس کو دن کا کیسے پتا چلا ؟ اس کو مہینوں کا کیسے پتا چلا ؟ عید کا کیسے پتا چلا ؟ لازماً اس شخص نے خود قاتل تیار کر کے ہے۔چنانچہ اس پر بہت سے اخبارات نے بہت شور ڈالا۔اخبار رہبرِ ہند لاہور نے اپنی ۵/ مارچ ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں لکھا کہ :۔" کہتے ہیں کہ ہند و قادیاں والے کو قتل کرائیں گے۔“ یعنی جوابی کارروائی کیلئے اُس نے اس طرح آمادہ کرنا شروع کیا کہ لوگوں سے سنتے ہیں کہ ہند ولوگ اب مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں چھوڑیں گے۔پھر آفتاب ہند نے ۱۸ / مارچ ۱۸۹۷ء کو مرزا قادیانی خبر دار“ کے عنوان سے خبر شائع کی۔