خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 435

خطابات طاہر جلد دوم 435 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1997ء دیا جائے گا۔جس بچے کی یہ خوشخبریاں دے رہا ہے وہ پیدائشی پاگل ہوگا اور کچھ دن رہے گا اور مر جائے گا اور اُس کو ہرگز وہ سعادتیں نصیب نہیں ہوں گی۔جو یہ مصلح موعود کے نام پر اُس کے متعلق بیان کرتا ہے۔چنانچہ اُس نے کہا تین سال کے اندر تم دیکھنا میری پیشگوئی کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کا وطن ایسا اُجاڑ دیا جائے گا کہ قادیان میں جب تم پوچھو گے کہ مرزا غلام احمد کون تھا تو کوئی بتانے والا نظر نہیں آئے گا۔کوئی ہوا کرتا تھا۔جس کا نام ونشان یہاں سے مٹا دیا گیا۔یہ جوابی کارروائی اُس کی تین سال چاہتی تھی۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چھ سال کا عرصہ بتایا اور تین سال ختم ہوتے ہی چوتھے سال میں لیکھر ام کو پکڑ لیا۔ایک بڑی، ذلت اور مار کا ایک بڑا نشان جو اُس نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا۔وہ یہ تھا کہ اُس کی تمام پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بستی کو اس تین سال کے عرصہ میں ترقی پر ترقی ملتی رہی اور بڑی حسرت کے ساتھ لیکھرام نے اپنی پیشگوئیوں کو جھوٹا اور جعلی اور مصنوعی ثابت ہوتا ہوا دیکھ لیا۔پس بعض لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ چھ سال کا عرصہ تو لمبا عرصہ ہے۔یہ لمبا عرصہ نہیں اس عرصہ میں لیکھرام کی پیشگوئی کا جھوٹا ہونا شامل کر دیا گیا تھا۔پس جب اُس نے اپنی پیشگوئی کو نا کام اور نامراد ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔پھر ۱۸۹۷ء میں اُس کی پکڑ کا سال آیا ہے یہ کیسے واقعہ ہوا؟ اس کی تفصیل میں اب آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لیکھرام کی عبرت ناک موت کے متعلق جو پیشگوئی ۱۸۹۳ء سے کر رکھی تھی۔اُس کی چھ سالہ معیاد مقررتھی۔جو اب اختتام کو پہنچ رہی تھی اور مارچ کے مہینے میں عید الفطر کا دن بھی آرہا تھا۔جو اس واقعہ کی معتین علامت بتائی گئی تھی۔پانچ مارچ کو عید الفطر کا دن تھا۔جو بظاہر سکون سے گز را۔لیکن اگلے دن سات بجے شام لیکھرام مکان کی بالائی منزل پر بیٹھے سوامی دیانند کی سوانح عمری لکھ رہا تھا۔۱۸۹۷ء کا سال جو شروع ہوا ہے۔اس وقت تک لیکھرام کی نا کامی تو ثابت ہوگئی۔مگر لیکھرام کو کیسے قتل کیا گیا اور وہ قاتل کہاں گیا۔یہ سارا واقعہ جو مخالف لکھنے والوں کو بھی تسلیم ہے کہ اسی طرح ہوا اُس کا خلاصہ یہ ہے۔کہ پانچ مارچ کو جو عید الفطر کا دن تھا اور یا درکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی میں یہ الفاظ تھے۔۔۔ستعرف يوم العيد والعيد اقرب ( تذکرہ: ۲۰۱) تو اس بات کو عید کے دن