خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 381
خطبات طاہر جلد دوم 381 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء ایمان پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ صالح کی صحبت نصیب نہ ہو، جب تک اس آسمانی وجود کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں جو خدا نے ان کو نجات کے لئے عطا فر مایا ہے۔پس اس میں ایک قسم کے درد کا اظہار ہے اور ان لوگوں کا نہ آنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل پر بہت بوجھل تھا۔آپ کے دل کی تمنا یہ تھی کہ سب دنیا کشاں کشاں چلی آئے ، تمام لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھیں تو سہی کہ آسمان سے کیا نورا ترا ہے اور کیسا نورا ترا ہے۔آج ایک زمانہ ہے کہ خدا نے اس نور کو تمام دنیا میں پھیلا دیا ہے۔جو نہیں آسکتے تھے وہ نور ان تک جا پہنچا ہے، ان کے گھروں میں جلوہ گر ہورہا ہے اور انٹر نیشنل ٹیلی ویژن کے ذریعے آج تمام دنیا کے کونے کونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر مجسم نور کا مظہر بن کر دکھائی جارہی ہے۔پس وہ درد جو لِلہ دل میں پیدا ہو وہ نا مقبول نہیں ہوا کرتا۔وہ بظاہر حسرت کا اظہار ہے مگرایسی حسرت جو مقبول ہوتی ہے اور حیرت انگیز پاک تبدیلیاں دنیا میں کر کے دکھاتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کا وہ درد ہے جو میں نے یہاں پڑھ کر سنایا ہے، اس کا ایک نمونہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔جو آج ان عالمی برکتوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔اس جلسے میں بہت سے ایسے ہیں جو شرکت کی خواہش کے باوجود قانونی مجبوریوں کی وجہ سے یا مالی مجبوریوں کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے۔ان کے بے حد درد کے خط مجھے پہنچتے ہیں اور جب میں وہ درد ناک خط پڑھتا ہوں تو مجھے مسیح موعود علیہ السلام کا وہ درد یاد آتا ہے اور میرا دل اس درد کے تصور سے تڑپنے لگتا ہے۔کہاں وہ وقت کہ مسیح موعود ان نہ آنے والوں کے لئے دکھے ہوئے دل کے ساتھ دعائیں کیا کرتے تھے کہ کاش ان کو سمجھ آ جائے۔وہ کیا ہے جو یہ نہیں دیکھ رہے، وہ کیا ہے جس کی صحبت کو نہیں پاسکے ؟ اور آج لاکھوں کروڑوں دل تڑپ رہے ہیں کہ کاش ہم وہاں پہنچتے جہاں آج مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو نہیں مگر مسیح موعود کا ایک ادنی چاکر کھڑا ہے ان کے مقام پر، ان کے نام پر آوازیں دینے کے لئے اور تمام دنیا کو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آقا حضرت اقدس محمد مصطفی کی طرف بلا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر اسی درد کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔