خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 380
خطبات طاہر جلد دوم 380 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء ہوتے ہیں۔ان پر خدا کے پیار کی نگاہیں پڑتی ہیں اور ان کے اللہ سے تعلق نئے رنگ اختیار کر جاتے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : دوم محضرت عمﷺ نے فرمایا ! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا کہاں ہیں وہ لوگ جو میرے جلال اور میری عظمت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں؟ آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے سائی رحمت میں جگہ دوں گا۔(مسلم کتاب الزکاۃ،حدیث : ۱۷۱۲) پس کتنی عظیم ایک نعمت ہے، کتنی عظیم ایک فضیلت ہے جو الہی محبت کے نتیجے میں بنی نوع انسان کو عطا ہونے والی ہے۔پس میں آپ کو اس کامیابی کی طرف بلا رہا ہوں جو سب سے اعلیٰ کامیابی ہے۔اس سائے کی طرف بلا رہا ہوں جو اس وقت نصیب ہوگا جب کوئی اور سایہ نہیں ہوگا۔پس اللہ سب سے پہلے ان کو بلائے گا جو اللہ کے جلال اور اس کی عظمت کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔پس خدا کرے کہ جب یہ آواز بلند ہو تو ہم میں سے لاکھوں کروڑوں ایسے ہوں جو لبیک لبیک کہتے ہوئے خدا کے حضور حاضر ہوں کہ اے خدا ہم وہ لوگ ہیں ہم وہ لوگ ہیں اور اللہ کی محبت کی آواز اس بات کی تصدیق کرے اور ہمیں وہ سایہ نصیب ہو جو خدا کی محبت اور رحمت کا سایہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔لوگ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ تو کہہ جاتے ہیں کہ دین کو دنیا پر ترجیح دوں گا لیکن یہاں سے جا کر اس بات کو بھول جاتے ہیں۔وہ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ وہ یہاں نہ آویں گے۔دنیا نے ان کو پکڑ رکھا ہے اگر دین کو دنیا پر ترجیح ہوتی تو وہ دنیا سے فرصت پاکر یہاں آتے۔یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ ابھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پوری طرح خود اُن لوگوں میں بھی پہنچانے نہیں گئے تھے جنہوں نے آپ کو قبول کر لیا تھا اور ایک بڑی جماعت ایسی تھی جو دُور دُور بیٹھے آپ کے دلائل کو سن کر آپ کے نشانات کو دیکھ کر آپ کو قبول تو کر چکی تھی مگر قادیان آ کر وہ چہرہ دیکھنے کی توفیق نہ پاسکی تھی۔ایسے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار بلایا، بار بار دعوت دی اور آپ جانتے تھے کہ