خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 382
خطبات طاہر جلد دوم 382 ” ہم نے بارہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے۔“ افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء اور پھر کہتے ہیں کہ : وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اٹھا ئیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں مگر اس کی پرواہ کچھ نہیں کرتے۔یا درکھو! قبر میں آواز میں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے ہو۔( یا درکھیں قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور ہر لحہ تمہیں موت کے قریب کرتا چلا جارہا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے ہو) اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے۔جب موت کا وقت آ گیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔(ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۲۴) پس تمام دنیا کی جماعت کو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان الفاظ میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر جو پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اب وقت ہے کہ وہ کر لیں، اب وقت ہے کہ اپنی ہستیوں پر ایک انقلاب برپا کر دیں اور وہ انقلاب حقیقی ذکر الہی کے سوا نصیب نہیں ہوسکتا۔اللہ کا ذکر ، اس کی توحید کا ذکر ، وہ ذکر جو ہر دوسرے ذکر پر غالب ہے حقیقت میں انسان کو تو حید پر قائم کرتا ہے اور ایسی توحید پر قائم کرتا ہے جس کے نتیجے میں تمام بنی نوع انسان کو تو حید پر قائم کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔خدا کا موحد بندہ اکیلا ہو جاتا ہے یعنی دنیا سے قطع کر کے ایک ہو جاتا ہے۔آسمان پر ایک خدا اور زمین پر وہ ایک بندہ اکیلا ہو جاتا ہے۔اس کے کیا معنے ہیں؟ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر دوسرا تعلق کٹ جاتا ہے، ہر دوسری محبت سے وہ ان معنوں میں منہ پھیر لیتا ہے کہ اللہ کی محبت ہر دوسری محبت پر غالب آجاتی ہے۔پھر اس اکیلے انسان کو خدا اکیلا نہیں رہنے دیتا کیونکہ وہ عرش پر اکیلا تو ہے مگر ساری کائنات اس کی ہے۔ربِّ كُــل شــي خــادِ مُک اے ہمارے رب ہر چیز تیری خادم ہے۔یعنی ہر وہ وجود جو ہمیں خدا کے سوا دکھائی دیتا ہے وہ خدا کے علاوہ وجود نہیں بلکہ خدا کے حضور جھکا ہوا ایک وجود ہے جو خدا کی قدرت کا ملہ سے پیدا ہوتا ہے اور ہمیشہ اسی کا رہتا ہے۔پس ان معنوں میں جب ایک خدا کا بندہ توحید اختیار کرتا ہے تو بظاہر وہ دنیا سے کاٹا جاتا