خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 374
خطبات طاہر جلد دوم 374 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء یہاں آنے والوں کو اس سلسلے میں کچھ نصیحتیں کرنا ہیں کیونکہ یہ باتیں جو میں بیان کر رہا ہوں یہ جب تک کچی نہ ہوں ، جب تک روز مرہ ہماری زندگی میں جاری نہ ہو جائیں اس وقت تک یہ باتیں بہت حسین اور دلکش تو ہیں مگر محض دعوے ہیں اور محض دعوؤں سے دنیا میں انقلاب برپا نہیں ہوا کرتے۔ذکر الہی سے ہی انقلاب بر پا ہوں گے مگر وہ ذکر جو دلوں میں جاری ہوں ، جو ہمارے خون میں مل جل جائیں اور خون کے ساتھ رگوں میں دوڑنے لگیں، جو ہمارے دلوں کے ساتھ دھڑ کنے لگیں، جو ہمارے خیالات پر چھا جائیں، ہماری تمنائیں بن جائیں۔ایسے مجسم ذکر ہمیں پیدا کرنے ہیں اور اسی غرض سے آپ لوگ دُور دراز سے تکلیفیں اٹھا کر یہاں پہنچے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دُعا میں شریک ہونے کے لئے اُس تاریخ پر آ جانا چاہئے۔( محض اللہ اور ربانی باتوں کو سننے کے لئے اس مقررہ تاریخ کو یہاں پہنچنا چاہئے ) اور اس جلسہ میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں اور نیز اُن دوستوں کے لئے خاص دُعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہِ ارحم الراحمین کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی اُن میں بخشے۔۔۔“ اس کے علاوہ کچھ فوائد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو بیان فرمائے ہیں میری دُعا ہے کہ وہ سارے فوائد بھی جماعت کو پہنچیں۔آپ فرماتے ہیں۔ہر یک نئے سال جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے مُنہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا ( یعنی محبت کا رشتہ قائم ہوگا اور اسی طرح تمام دنیا کے ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرتے ہوئے ملتِ واحدہ بنتے رہیں گے ) اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے