خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 375
خطبات طاہر جلد دوم 375 افتتاحی خطاب جلسہ سالانه ۱۹۹۵ء انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اُس کے لئے دُعائے مغفرت کی جائے گی۔۔۔“ پس یاد رکھیں اس جلسے میں جو دعائیں ہوں گی۔خصوصیت کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ، اس دوران جو بھی ہمارے بھائی اور بہنیں جو بھی خدا تعالیٰ کی خاطر ہم سے محبت کرنے والے اس دنیا سے گزر گئے ہیں۔اب ہماری ان سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ ہم بھی ان سے محبت کریں اور اس محبت کو جاری رکھیں اور ہمیشہ اپنی دعائے خیر میں ان کو یا درکھیں۔پھر فرمایا:۔اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور اُن کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اُٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جلشانہ کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی رُوحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدير وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے۔“ ( آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه : ۳۵۲) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اول یہ کہ اس جلسے سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ: ۳۶۰) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ بہت ہی احتیاط سے چنے جاتے ہیں اور بعض اوقات انسان یہ توقع رکھتا ہے کہ یہ فقرہ اس لفظ پر ختم ہو گا مگر اس سے ہٹ کر کسی اور لفظ پر ختم ہوتا ہے۔بعض جگہ انسان یہ سوچتا ہے کہ یہاں یہ لفظ موزوں ہوگا اور اس کے برعکس کوئی اور لفظ دکھائی دیتا ہے۔ہر ایسے موقع پر ٹھہر کر توجہ سے اس پر غور کرنا چاہئے۔اس میں ان الفاظ کے چناؤ میں گہری حکمت ہوتی ہے۔مثلاً ابھی میں نے آپ کے سامنے یہ فقرہ پڑھ کے سنایا ہے۔”ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی۔یہ نہیں فرمایا کہ اپنے اندر کر لیں ، اپنے اندر حاصل کر لیں۔اب روزمرہ کی گفتگو میں تو یہ نہیں کہا جاتا کہ ایک تبدیلی حاصل کر لیں۔مگر ایک