خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 373
خطبات طاہر جلد دوم 373 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۹۵ء یہ حضرت جابر کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین ذکر کلمہ توحید ہے۔یعنی اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بہترین دعا الحمدالله ہے۔(ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۲۳۰۵) پس آج تمام دنیا کے احمدی اس کلمہ توحید کے ذریعے ذکر الہی بلند کر رہے ہیں اور اس توفیق پانے کے نتیجے میں حمد میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سلسلے کو ہمیشہ جاری وساری رکھے اور یہ ذکر بڑھتا ر ہے اور پھیلتا رہے اور کل عالم پر ممتد ہوتا چلا جائے۔یہاں تک کہ ایک ہی خدا ہو جس کا اقرار کیا جائے ، ایک ہی کلمہ شکر ہو یعنی الحمد اللہ جو تمام بنی نوع انسان کی زبانوں پر جاری ہو جائے اور ان کے دل سے چشموں کی طرح پھوٹے۔خدا کرے کہ ہم خدا کے عاجز بندوں کو یہ توفیق ملے کہ کل عالم کو اس وحدت کی کڑی میں، وحدت کی زنجیر میں لپیٹ لیں اور خدا کا کوئی بندہ ایسانہ رہے جو خدا کا بندہ کہلانے کا مستحق نہ ہو۔خوشخبری جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان سے میں آپ تک پہنچاتا ہوں وہ بھی حضرت جابر ہی کی روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہے ایک روز ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو! جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جنت کے باغ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایاذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ صبح اور شام کے وقت خصوصاً اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے اس قدر ومنزلت کا علم ہو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس کی ہے، تو وہ یہ دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا کیا تصور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ایسی ہی قدر کرتا ہے جیسے اس کے دل میں اللہ تعالی کی ہو۔(حدیقہ الصالحین :۹۲) پس یہ ذکر کے باغ جو یہاں لگے ہیں اور تمام دنیا میں لگ چکے ہیں ، یہ وہ پودے ہیں جو خدا کے اذن کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھوں نے لگائے ہیں۔اللہ ان باغوں کو پھولتا اور پھلتا ر کھے اور پھیلاتا رہے یہاں تک کہ تمام دنیا کی سعید روحیں پرندوں کی طرح اس کی شاخوں پر آ کے آرام کریں، اس کی شاخوں پر بسیرے ڈالیں اور اس کی رحمت کے سائے تمام عالم کو اپنی رحمت کے سائے تلے لے لیں۔