خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 328
خطابات طاہر جلد دوم 328 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مفتری اور جھوٹا قرار دیتے ہیں ( اور اقوام ہیں تو قرار دیتی ہیں ) اور تمہارا کوئی بس نہیں، کوئی پیش نہیں جاتی ، کچھ بھی ان کا نہیں کر سکتے اس لئے کہ یہ تمہارا دین اسلام کا دین نہیں ، یہ دین فطرت نہیں ہے۔دین فطرت وہی ہے جو خدا نے ہر روح میں اس طرح داخل فرما دیا ہے کہ اس دین فطرت سے انسان کا خمیر اٹھایا گیا ہے۔اس خمیر کے خلاف تم کوئی دین دنیا میں رائج نہیں کر سکتے۔وہی دین رائج ہوگا اور فتح یاب ہوگا جس کا خمیر انسانی فطرت میں گوندھا گیا ہے اور وہ بین الاقوامی انسانیت کا تصور ہے۔اسلام کا کوئی حکم بھی اس بین الاقوامی انسانی تصور سے ٹکر انہیں سکتا۔اب ان کے دلائل سنیئے ، مولویوں کے دلائل اب میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔توہین رسالت کے متعلق دو آیات پیش کرتے ہیں۔وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنَّ قُلْ أذُنَ خَيْرِ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ (التوبه (1) کہ ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں۔وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُ اور کہتے ہیں کہ یہ تو ہر وقت سنے کا کان بنا ہوا ہے۔یعنی لوگوں کی چغلیاں سنتا اور ان پر عمل کرتا اور ان پر ایمان لاتا ہے اور یکطرفہ باتیں سن کر ان کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔قُلْ أذن خَيْرِ لَكُم كان تو ہے مگر بھلائی کی باتوں پر کان دھرتا ہے، ایسا کان ہے جو تمہاری بھلائی کا کان ہے۔تمہارے لئے شر کی بات کو قبول نہیں کرتا تمہاری خیر کی بات کو قبول کرنے والا ہے۔يُؤْمِنُ بِاللهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور مومنوں پر ایمان لاتا ہے۔یعنی مومنوں کی سچی باتیں سنتا ہے۔وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ اور وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے مجسم رحمت ہے۔وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہیں۔لَهُمْ عَذَاب الیم ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔کہاں لکھا ہے کہ ان کی گردنیں مارنا تم پر دینی فرض ہے۔اللہ کی طرف سے عذاب کی خبریں سارے قرآن کریم میں بکھری پڑی ہیں۔تمام کجیاں خواہ وہ عقائد سے تعلق رکھتی ہوں یا اعمال