خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 329
خطابات طاہر جلد دوم 329 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۹۴ء سے تعلق رکھتی ہوں خدا کے حضور نا پسندیدہ ہیں اور ان سب کجیوں کے ذکر کے بعد خدا کسی نہ کسی عذاب کی خبر دیتا ہے۔پس اس سے یہ استنباط کر لینا کہ اس کے نتیجے میں قرآن ہر ایک کو اجازت دیتا الله ہے اگر وہ سمجھے کہ کسی نبی کی ہتک ہوئی ہے یا خصوصیت سے حضرت رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی گئی ہے تو اس کا خون اس پر حلال ہو جاتا ہے، یہ کسی خاص مولوی منطق کے سوا انسان کو سمجھ نہیں آسکتا۔پھر ایک دوسری آیت یہ پیش کی ہے إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا (الاحزاب :۵۸) کہ وہ لوگ جو اللہ اور رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر اس دنیا میں بھی لعنت کی گئی اور آخرت میں بھی لعنت کی گئی اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا ، رسوا کن عذاب مقدر ہے۔اس سے استنباط کرتے ہیں کہ دیکھو دنیا میں بھی تو لعنت ہے اور وہ لعنت ہم ہیں ، ہم ان پر لعنت بن کے برسیں گے۔واقعہ یہ ہے کہ یہ محاورہ قرآن کریم میں عام ہے، یہود کے متعلق بھی کثرت سے ہے کہ دنیا میں بھی ان پر غضب نازل ہوا ، آخرت میں بھی غضب نازل ہوگا، اس دنیا میں غضب نازل ہوتا رہے گا۔تو کیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آپ کو قرآن کریم یہ حق دیتا ہے کہ ہر یہودی کو جہاں دیکھو اس کا قتل و غارت کر دو۔قرآن کریم سے بھی تو وفا کرو جیسا ترجمہ ایک جگہ کرتے ہو ویسا دوسری جگہ بھی تو کر کے دکھاؤ۔یہ تو نہیں کہ اپنے من مانے ترجمے قرآن کو پہناتے رہو۔ویسی ہی آیات دوسری جگہ ہوں تو ان کے کچھ اور ترجمے کر لو اور جہاں اپنی مرضی ہو، جہاں بس چلے وہاں ترجمے بدلتے رہو۔یہ کتاب اللہ کی گستاخی ہے، اس گستاخی کی قرآن تمہیں اجازت نہیں دیتا۔پس ہم یہ تو نہیں مانتے کہ انسان کو طاقت ہے کہ وہ تمہیں ذلیل ورسوا کرے، مگر انہی آیات کو پیش کرتے ہوئے میں تمہیں کہتا ہوں اگر تم اس ظالم مسلک سے باز نہ آئے تو خدا کا وعدہ ہے کہ وہ تمہیں ضرور ذلیل ورسوا کرے گا اور اسلام کو تمہارے ہاتھوں ذلیل ورسوا نہیں ہونے دے گا۔جہاں تک تاریخ اور خصوصاً اس تاریخ کا تعلق ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بنی ہے۔حضور اکرم کے کردار، آپ کے احکامات کی روشنی میں اسلام کی ایک تاریخ آپ کے زمانے میں بنی شروع ہوئی۔اس تاریخ کے حوالے سے دشمنان اسلام دو ایسے واقعات پیش کرتے ہیں جن پر وہ