خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 82

خطابات طاہر جلد دوم 88 82 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۵ء نئے نئے زاویے سامنے آتے ہیں لوگوں کے کہ یہ فیصلہ ہی نہیں ہوا کہ کرنا کہاں ہے۔اس کے لئے بھی دعا کریں، اللہ رہنمائی فرمائے اور وہاں اچھی جگہ ہمیں مشن بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بھی پیسے موجود ہیں، یہ دونوں مشن خدام الاحمدیہ نے دینے کا وعدہ کیا تھا اور رقم مہیا کر چکی ہے۔فرانس کا بھی میں نے بتایا ہے رقم موجود ہے اللہ کے فضل سے ( یورپ کا جو دورہ کرنے کی توفیق ملی )۔دوسری مثال انڈونیشیا میں کن جایا“ کے مقام پر مسجد کی تعمیر کی ہے جس کی تمام تر تعمیر وقار عمل کے ذریعہ ہوئی جس میں نہ صرف احمدی احباب شامل ہوئے بلکہ غیر از جماعت احباب بھی شامل ہوئے۔یورپ کا جو میں نے دورہ کیا تین چار ممالک کا یہ خصوصیت کے ساتھ نئے مشنز کے قیام کے لئے تھا۔نئی زمینوں کے حصول، مساجد کی زمینوں کے لئے مشن کے لئے اور بعض مشنوں میں جو بنے ہوئے ہیں پہلے سے ان میں وسعت دینے کی سکیم بھی زیر غور تھی۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ میں خدا کے فضل سے فیصلہ ہو گیا ہے، ہالینڈ میں نقشہ بنے کا کہ دیا گیا ہے، نئی زمین خریدنے کا بھی کہا گیا ہے، نے مشن ہاؤس میں وسعت کا بھی فیصلہ ہو گیا ہے اور خدا کے فضل سے چندہ بھی دوستوں نے دینا شروع کر دیا ہے اپنا ہیمبرگ کا بتا چکا ہوں، فرینکفرٹ کا میں بتا چکا ہوں، فرانس کا بتا چکا ہوں زیورخ کے مشن ہاؤس کی توسیع کی گئی ہے۔یہ تو تھا مشن کا اصل کام جس کی غرض سے میں گیا تھا یعنی اصل کام تو اس کو نہیں کہنا چاہئے بنیادی کام تو جماعت سے ملنا تھا اور خلیفہ وقت کا ہمیشہ ہی بنیادی کام رہے گا کیونکہ جماعت سے مل کر جو دوطرفہ فائدہ پہنچتا ہے، یہ جتنے پھل ہیں یہ اس فائدے کے پھل ہیں پھر آگے ایک نئی روح پیدا ہوتی ہے مجھے آپ سے مل کر آپ کو مجھ سے مل کر ، نئے ولولے جاگتے ہیں ،نئی امنگیں دلوں میں اٹھتی ہیں اور اللہ کے فضلوں اور احسانات کو ہم برستا دیکھتے ہیں، ایک ایسی عظیم اسلامی اخوت کو دیکھتے ہیں کہ باہر بیٹھے اس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ، یعنی وہ لوگ جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔جب تک وہ گزریں نہ ان راہوں سے ، تو اس پہلو سے یہ جو دورہ تھا یہ بہت ہی عظیم اثرات پیدا کر گیا ہے۔جماعتیں جو پہلے بھی اخلاص میں نہائی ہوئی تھیں انہوں نے جو محبت کا سلوک کیا اس پر خدا ان پر فضلوں کے ساتھ ، اپنے فضل لے کر نازل ہوا اور ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی ہوئی۔ان کی کوششوں