خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 4

خطابات طاہر جلد دوم 4 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء اذیتیں دی جاتی تھیں کہ تم اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہتے ہو اور ان کا نام صابی رکھا گیا چنانچہ ابوامامہ باصلی نے جب اسلام قبول کیا اور اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے تو روایت آتی ہے کہ اُن کی قوم نے اُن سے کہا بلغنا انك صبوت الى هذا الرجل کہ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تو صابی ہو گیا ہے۔(المستدرک للحاکم جلد ۴ صفحه : ۳۶۸) با وجود اس کے کہ مسلمان اقلیت جانتی تھی کہ ہمارا مسلمانی کا دعوئی ان کو پسند نہیں پھر بھی وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے رہے۔اسی طرح حضرت ثمامہ بن اثال کو رسول کریم ﷺ نے خوشخبری دی اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کریں۔جب وہ مکہ آئے تو لوگوں نے ان کو کہا صابی ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا نہیں نہیں میں تو محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسلمان ہوا ہوں۔( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر : ۴۰۲۴) حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ جب میرے باپ عمر مسلمان ہوئے انہوں نیکہا اے قریش ! تم میں سے کون ہے جو میری اس بات کا اعلان لوگوں میں کر دے کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔انہیں بتایا گیا کہ جمیل بن معمر میں یہ خوبی ہے کہ وہ بات سنتے ہی مشتہر کر دیتا ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمیل کے پاس تشریف لے گئیاور اس کو بتایا کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔وہ اس وقت اٹھا اور اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے چل پڑا اور مسجد حرام کے پاس پہنچ کر قریش مکہ کے اندر یہ اعلان کیا کہ اے لوگو! عمر بن الخطاب صابی ہو گیا ہے۔حضرت عمرؓ جو پیچھے کھڑے تھے انہوں نے کہا یہ جھوٹ بولتا ہے میں تو مسلمان ہوا ہوں۔چنانچہ وہ تمام قریش مکہ جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے معا حضرت عمر پر پل پڑے اور جس طرح جو کچھ کسی سے بن پڑا اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس جرم کی سزا دینے کی کوشش کی۔(سیرت ابن ہشام) حضرت ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ جب میں مسلمان ہوا تو میں پہلی مرتبہ جب مکہ آیا تو اس خوف سے کہ اگر کسی طاقتور آدمی سے میں نے پوچھا تو کہیں وہ مجھے مارنے نہ لگ جائے۔میں نے اپنی طرف سے ایک کمزور آدمی کو چنا اور اس سے دریافت کیا کہ وہ شخص کہاں ہے جس کو تم صابی کہہ کر پکارتے ہو؟ ابوذر فر ماتے ہیں کہ اس نے میری طرف اشارہ کیا اور شور مچا دیا یہ صابی ہے، یہ صابی ہے۔اہلِ وادی مجھ پر ٹوٹ پڑے۔اینٹ، پتھر، روڑے اور ہڈیوں کے ساتھ مجھے اتنا مارا کہ میں ہوش وحواس کھو کر جس طرف سر اٹھا بھاگ پڑا۔(مسلم کتاب الفضائل حدیث نمبر : ۴۵۲۰) پس یہ دو متقابل مناظر بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔جب قدریں بگڑ جاتی ہیں ، جب تصورات