خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 3
خطابات طاہر جلد دوم 3 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء بَعْضًا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران : ۶۵) کہ اے اہل کتاب ! میں تمہیں ایک ایسے کلمہ کی طرف بلا تا ہوں جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے۔معاشرہ کی اصلاح اور زمانہ کے دُکھ دُور کرنے کے لئے سب سے بہتر اصول یہی ہے کہ مشترک قدروں کو پکڑا جائے اور اختلافی باتوں کو پس پشت ڈال دیا جائے اور جہاں تک صلى الله تعاون کا تعلق ہے وہ مشترک قدروں ہی میں ہو سکتا ہے۔پس آنحضور ﷺ نے یہ اعلان فرمایا کہ آؤ جس خدا کو تم بھی واحد خدا مانتے ہو اُسی خدا کی طرف میں تمہیں بلا تا ہوں۔اختلاف مذہب اپنی جگہ لیکن یہ قدر مشترک ہمیں ایک تعاون کی طرف ضرور بلا رہی ہے۔تعاون کا یہ تصور آپ نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق پیش فرمایا اور پھر فرمایا: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدہ : ۳) تم کوئی بھی مذہب رکھتے ہو اس سے کوئی غرض نہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ خدا کو واحد سمجھتے ہو یا نہیں سمجھتے لیکن نیکی پر تو تعاون کرو کیونکہ نیکی کا تعاون تو تمام انسانوں کے درمیان ایک قدر مشترک ہے۔احادیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تعاون کی اس اپیل کے جواب میں کفارِ مکہ نے تعاون کی ایک عجیب راہ اختیار کی۔اُن کے تعاون کا بگڑا ہوا اتصور یہ تھا کہ قدر اشتراک میں تعاون نہیں بلکہ قدر اختلاف میں تعاون ہونا چاہئے۔کچھ ہم تمہارے خدا کی عبادت کرتے ہیں کچھ تم ہمارے خداؤں کی عبادت کرو۔کچھ تم اپنے بیچ کو مانو کچھ ہمارے جھوٹ کو مانو اور اسی طرح ہم بھی کچھ تمہارے بیچ کو مانیں گے کچھ اپنے جھوٹ کو مانیں گے۔تعاون کا یہ ایک عجیب وغریب بگڑا ہوا تصو ر تھا۔ایک ہی وقت میں مکہ سے تعاون کے یہ دو اعلانات ہورہے تھے۔پھر اس متضادصورت حال کا ایک عجیب منظر یہ نظر آتا ہے کہ عرب کی واضح اکثریت نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے دین کا نام ہم رکھیں گے کیونکہ ہم واضح عددی اکثریت رکھتے ہیں۔یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ان کے دین کا نام رکھیں اور جہاں تک علوس آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں کا تعلق ہے ان کا یہ نظریہ تھا کہ حضرت محمد مصطفی ہے اور آپ کے غلاموں کو یہ بھی حق نہیں کہ اپنے دین کا نام رکھیں۔چنانچہ اس جرم میں ان کو طرح طرح کی