خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 5
خطابات طاہر جلد دوم 5 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۲ء بدل جاتے ہیں، جب عقلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں تو اس وقت نور نبوت کے مقابل پر کھڑے ہونے والوں کی یہ کیفیات ہو جایا کرتی ہیں۔چنانچہ یہاں تک ظلم ہوا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی جا ہے اور آپ کے ماننے والوں کو کلمہ پڑھنے سے روکا گیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا ذُكِرَ اللهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُونِةٍ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر:۴۶) کہ جب خدائے واحد کا ذکر اُن کے سامنے کیا جاتا ہے تو وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل اس پر مشتعل ہو جاتے ہیں اور وہ نفرت کرنے لگتے ہیں اور اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ خدائے واحد کا ذکر کیا جائے۔حضرت زبیر بن عوام قبیلہ اسد سے تعلق رکھتے تھے اور ایک جوان مرد آدمی تھے۔جب وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر ایمان لائے اور کلمہ شہادت پڑھا تو اس جرم میں ان کا ظالم چا ان کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کے ناک میں آگ کا دھواں دیا کرتا تھا اور تو بہ کے لئے اصرار کیا کرتا تھا لیکن وہ اسی حالت میں چٹائی میں لیٹے لیٹے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے مگر کلمہ کا انکار نہ کرتے۔( تاریخ دمشق لابن عسا کر جلد ۲۰ صفحه: ۲۵۸) حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ لو ہار تھے ایک غریب غلام تھے، تلواریں بنایا کرتے تھے۔جب آپ نے آنحضور ﷺ کی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا تو اس ”جرم“ میں ان کی مالکہ نے اُسی بھٹی سے جس کو وہ تایا کرتے تھے لوہے کی گرم گرم سلاخیں نکالیں اور ان کے جسم کو اُن سے داغا اور اسی طرح کرتی رہی لیکن راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئی۔کتاب بے ہوش تو ہو جایا کرتے تھے مگر توحید باری تعالیٰ یا رسالت محمد مصطفی امیہ کا انکار نہیں کرتے تھے۔(اسد الغابہ جلد اصفحہ: ۶۷۵) حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے اور ان مظلومین میں سے تھے جن پر طرح طرح کے مظالم توڑے جاتے اور مجبور کیا جاتا کہ کسی طرح توحید باری تعالیٰ کا انکار کر دیں۔ابو جہل کے متعلق آتا ہے کہ وہ آپ کو منہ کے بل گرا دیتا اور تیز دھوپ میں او پر چکی رکھ دیتا تا کہ دھوپ اسے خوب گرم کرے اور کہتا محمد کے رب کا انکار کرومگر بلال نیم بیہوشی کی حالت میں بھی یہی فرمایا کرتے۔احد احد، احد احد۔وہ ایک ہے، وہ ایک ہے،اس کا انکار میری زبان سے ممکن نہیں اسی حالت میں آپ بسا اوقات بیہوش ہو جایا کرتے۔