خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 527

خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 22

خطابات طاہر جلد دوم 22 22 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو ان قوموں کو مٹادے گی جو محض اللہ کی رضا کی خاطر دنیا کو خدا کی طرف بُلانے والی ہوتی ہیں۔انہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم ایک اور جگہ فرماتا ہے: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (پاس:۶۳) کہ سُنو! خدا کے بندے جو خدا کے ولی بن جاتے ہیں جو خدا کے دوست ہو جاتے ہیں۔اپنے رب سے پیار کرتے ہیں، اپنے رب کی محبت کے گیت گاتے ہیں، اللہ کی محبت ہی ان کی زندگی بن جاتی ہے۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ اُن پر کوئی خوف نہیں ہے وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ اور کوئی ایسا وقت ان کی زندگیوں میں نہیں آئے گا کہ وہ غم کریں اور پچھتائیں کہ کاش ہم نے یوں نہ کیا ہوتا اور یوں کیا ہوتا۔آئندہ کے لئے بھی وہ فکروں سے آزاد ہیں اور ماضی سے متعلق بھی وہ فکروں سے آزاد ہیں اور ان کا حال بھی پر امن ہے کیونکہ آسمان کا خدا اُن کو امن کی ضمانت دیتا ہے۔پس ساری دنیا کی نفرتوں میں سے سب سے زیادہ ممتاز نفرت جو جماعت احمدیہ کو دوسری ہر جماعت سے الگ کر دیتی ہے وہ یہی نفرت ہے جو اللہ کی خاطر ہم سے کی جارہی ہے۔عجیب حالت ہے کہ ہم اللہ کی خاطر اس نفرت کو برداشت کر رہے ہیں اور بعض لوگ اللہ کی خاطر اس نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہی اَحكَمِ الحکمِینَ ہے اسی پر ہماری نظر ہے لیکن میں ان نفرت کرنے والوں کو خوب کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ تم نفرتوں کی آگ جتنی چاہو بھڑ کا ؤ ہمارے صبر کوتمہاری آگ جلا نہیں سکے گی۔بغض و عناد کے الاؤ روشن کرو جتنی تم میں ہمت ہے اس میں ایندھن ڈالو اور اسے خوب بھڑ کا ولیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ احمدی جو تم سے محبت کرتا ہے اس محبت پر تمہاری نفرت کی آنچ نہیں آئے گی اور نہیں آئے گی اور نہیں آئے گی۔محبت زندہ کرنے کے لئے ہوتی ہے اور زندہ رہنے کے لئے ہوتی ہے۔آج تک کبھی نفرت، محبت پر غالب نہیں آئی اس لئے میں اپنے سے نفرت کرنے والوں کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ ہماری طرف سے تمہیں ہمیشہ امن نصیب رہے گا۔تمہارے دُکھ اُٹھا کر مرنے والے آخری وقت میں ، آخری سانسوں میں تمہیں دعائیں دیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ یہی دعائیں ہیں جنہوں نے تمہاری تقدیر بدلنی ہے اور تمہیں ہلاکتوں سے بچانا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت محمد مصطفی میں اللہ کے غلام نفرتوں سے خوف کھا جائیں اور ڈر جائیں جبکہ موسیٰ علیہ السلام کے غلاموں نے تو ایسا نہیں کیا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غلاموں کو یعنی اُن