خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 21
خطابات طاہر جلد دوم 21 افتتاحی خطاب جلسه سالانه ۱۹۸۳ء وہ صورت وہی تھی جس کا میں نے ذکر کیا کہ منادی للايمان پر ایمان لایا جائے۔اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو بچانے کے جو سامان عطا فرمائے ہیں انہیں قبول کیا جائے ہم اپنے رب کی طرف واپس لوٹ آئیں اس کے سوا اب بچنے کی اور کوئی صورت نہیں لیکن عجیب بات ہے کہ دعوت الی اللہ کو بھی نفرت کے مارے ہوئے انسان نے مزید نفرت کی وجہ بنالیا محض اس لئے کہ کچھ لوگ اپنے رب کی طرف بلا رہے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ایک مصلح کو ، ایک نجات دہندہ کو بھیجا محض اس وجہ سے اُن سے نفرت کی جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِة الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شهيدة کہ عجیب حال ہے انسان کا کہ بعض لوگوں سے محض اس لئے بھی نفرت کر رہا ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لے آئے انہوں نے کوئی وجہ نفرت پیدا نہ کی ، انہوں نے کسی کے گھر لوٹے نہ کسی کو زندہ آگ میں جلایا، نہ کسی پر وہ نا واجب حملہ آور ہوئے اور نہ کسی کو گالیاں دیں، نہ یہ تعلیم دی کہ ان کے گھر لوٹو کہ یہ باعث ثواب ہو گا، نہ یہ کہا کہ فلاں کو قتل کرو تو تم جنت میں جاؤ گے۔وہ تو خالصہ اللہ کی خاطر اس کے نام پر اس کی طرف بلانے والے تھے اس کے سوا کوئی وجہ نہیں ان سے نفرت کرنے کی لیکن جب انسان نفرتوں کا شکار ہو چکا ہوتا ہے تو پھر اُسے یہ بات بھی قبول نہیں ہوتی کہ کوئی ہمیں نجات کی طرف بھی بلائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ وہ رب ہے جس کی خاطر ان سے نفرت کی جارہی ہے لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وہ تو زمین و آسمان کا مالک خدا ہے اس کی بادشاہت صرف آسمان پر نہیں بلکہ زمین پر بھی ہے اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس خدا کے بندوں سے نفرت کر کے انہیں کوئی قوم ہلاک کر سکے۔پس آج دنیا میں جتنی بھی نفرتیں ہیں ان کے خلاف امن کو کوئی ضمانت نہیں ہاں ایک نفرت ہے جس کے خلاف امن کی ضمانت ہے جس کے متعلق حتمی طور پر قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور وہ وہ نفرت ہے جو محض اللہ کی خاطر بعض قو میں قبول کیا کرتی ہیں۔