خطابات طاہر (جلد دوم ۔ افتتاحی خطابات جلسہ سالانہ) — Page 162
خطابات طاہر جلد دوم 162 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۸۹ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے لاؤڈ سپیکر کا منہ سیدھا ہماری طرف ہوتا ہے اور اس کے شور کی وجہ سے ہم دروازے بند کر کے بیٹھتے ہیں اور جمعہ بھی بند دروازوں میں پڑھتے ہیں اب تو اس کی بد زبانی حد سے بڑھتی چلی جارہی ہے۔یہ صرف طالب علموں کا حال نہیں اس قسم کی بدزبانی کرنے والے پاکستان میں بسنے والے احمدیوں کی ہمسائیگی میں ہر طرف موجود ہیں۔دن رات ان کے صبر کی آزمائش ہو رہی ہے۔ایک لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) کے متعلق ایک صاحب اسلام آباد سے لکھتے ہیں کئی سالوں سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ہمارا ہمسایہ ہے۔رات کو دیوار پھاند کر گندی گالیاں لکھنے کا عادی ہے اور اسی طرح کاغذوں پر گندی گالیاں لکھ لکھ کر ہمارے گھر پھینکتا رہتا ہے۔آج کل اس کے اس قبیح فعل میں شدت آگئی ہے میری تو خیر ہے بچوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔اپنی بساط کے مطابق دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو ہدایت دے اور اس قبیح فعل سے باز رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔سید محمد صادق صاحب پھگلہ لکھتے ہیں یہ ایک معزز سید خاندان ہے جس کا علاقہ پر بہت رسوخ واثر تھا۔ان کے والد کے بہت سے احسانات ہیں ماحول پر اور اس سارے علاقے میں بڑی عزت کے ساتھ یاد کئے جاتے تھے۔مجھے بھی ایک دفعہ موقع ملا میں ان کے گھر مہمان بھی ٹھہرا۔یہ کہتے ہیں کہ جب میں واپس پھگلہ پہنچا تو مکان جل چکا تھا اس کی حالت خراب تھی ، درندہ صفت مولوی نے تمام ماحول خراب کیا ہوا تھا لیکن اس خیال سے کہ ان کو یہ خوشی نہ پہنچے کہ احمدی بھاگ گئے ہیں مجھے یہ ہرگز قبول نہیں تھا کہ میں اس جگہ کو چھوڑ دوں۔چنانچہ اس جلے ہوئے مکان میں میں نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔وہ مسجد جو دو منزلہ مسجد تھی اب مٹی کا ڈھیر ہے اسی پر پردے ڈال کر ہم نے عید یہیں کی اور اللہ پاک کے در کے فقیر ہو کے یہ عید گزاری۔مولوی نے سختی سے گاؤں والوں کو بات چیت کرنے سے منع کیا ہوا ہے۔سخت فسادی ہے۔لوگ دل سے اس سے متنفر ہیں لیکن اظہار کی جرات نہیں رکھتے۔احمدیوں نے جہاں اپنے کلمے کے ساتھ چھٹے رہنے کے حق کو نہیں چھوڑا وہاں غیروں تک اپنی بات پہنچانے خصوصاً دفاعی رنگ میں اپنی بات پہنچانے کا حق بھی بہر حال استعمال کرتے رہتے ہیں۔اگر چہ اس کے نتیجے میں ان کو نگین سزائیں دی جاتی ہیں۔ایک صاحب سیالکوٹ کے ایک قصبے سے لکھتے ہیں ایک نوجوان مباھلہ کا پمفلٹ تقسیم کرنے پر مجھے اور صباح الدین کو پولیس نے گرفتار